TopSecurity

اب ہر مسجد میں مدرسہ –اسکول کا قیام ناگزیر ہے

سید جاوید انور

 تاریخ

تعلیم و تربیت کا نظام مسلمانوں میں ابتدائے نبوت   سےجاری ہے۔مکہ میں جیسے جیسے اسلام قبول کرکے لوگ آتے رہے وہ مدرسہ (اسکول) دار ارقم میں رجسٹر ہوتے رہے۔ اور رسول اللہ  ﷺ  بحیثیت معلم کے ان کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔ہجرت یثرب کے بعد مسجد نبوی کے ساتھ ہی ساتھ مدرسہ صفہ اور مسجد قبا کے ساتھ مدرسہ قباءکا قیام عمل میں آیا اور معلم اور مربی ﷺکی موجودگی میں دور دراز سے روشنیوں کے مرکز شہر مدینہ میں لوگ کشاں کشاں آکر ھادی اعظم سے علمی فیض حاصل کرتے رہے۔کم از کم ایک صدی ہجری تک مسجد مدرسہ (اسکول، نظام تعلیم و تربیت) کا یہ امتزاج باقی رہا۔اس کے بعد طلباءکے وسیع پھیلاوُ کے باعث مسلم حکمرانوں اور علماءنے مسجد اور مدرسہ (نظام تعلیم و تربیت) کا انتظام علیحدہ کر دیا ۔ بعد ازاں مزیدسہولت کے لئے تعلیم و تربیت کا نظام بھی الگ ہو گیا اور مدرسہ کے ساتھ ساتھ خانقاہ کا وجود عمل میں آیا اس طرح تعلیم کی بنیادی ذمہ داری مدارس کے پاس اور تربیت کی بنیادی ذمہ داری خانقاہ کے پاس آگئی ۔

تاہم مسلم حکمرانوں نے عام طور پر مدارس اور خانقاہ کو سیاسی اور معاشی طور پر مکمل آزاد رکھا۔تعلیم و تربیت کی ذمہ داری علماءکرام کی تھی اور وہ حکومت سے آزاد تھی۔ اسی لئے مسلمانوں نے تعلیم کا جو وسیع اور عمیق نظام مسلم دنیا میں قائم کیا اس کی کوئی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔خصوصاً بغداد اور ہند میں تعلیم اور تعلم کا جو پھیلاوُ تھا اس کے اوپر کسی کا سیاسی نظام چلانا ناممکن تھا۔تاتاریوں نے مسلم دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، مرکز خلافت بغداد پر ان کی سیاسی حکومت قائم ہو گئی لیکن وہ کوئی تعلیمی نظام لیکر نہیں آئے تھے ۔جب تاتاریوں کی اولادیں مسلمانوں کے تعلیمی نظام (مدارس ) سے گزریں تو تیسری نسل کے بعد وہ پوری نسل مسلم ہو چکی تھی۔ اس طرح خلافت اسلامیہ کا تسلسل ایک مختصر تعطل کے بعد پھر قائم ہو گیا۔ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلیمی نظام کی بنیادیں بہت گہری تھیں اور سیاسی انقلابات ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔پنجاب اور سرحد کے اندر جس وقت سکھوں کی حکومت قائم ہو گئی تھی اس وقت بھی مسلمانوں کا نظام تعلیم پوری طاقت سے کھڑا تھا۔اور سکھوں کی اولادیں بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے مسلم درسگاہوں کی محتاج تھیں۔اس طرح ہندوستانی مسلمانوں کے نظام تعلیم نے ان کے سماجی اور اخلاقی بنیادوں کو قائم رکھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی ایک سو سال تک مسلمانوں کے وسیع، گہرے اور مضبوط تعلیمی نظام کے باعث ان کے ذہنوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ۔بالآ خر ان کے تعلیمی فلاسفہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مسلمانوں کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر اکھاڑ پھینکنے اور ان میں نئے مغربی نظام تعلیم کو رائج کئے بغیر ان کو “قابو” میں نہیں لایا جا سکتا ہے۔لارڈ میکالے ایک نیا تعلیمی نظام لے کر آیا جس کے مقاصد کو اکبر الہٰ بادی نے ایک مصرعے میں سمیٹ دیا “کر کلرکی، کھا ڈبل روٹی اور خوشی سے پھول جا” اس طرح نئے نظام تعلیم نے مسلم قوم پر غلامی کو اس قدر مسلط کر دیا کو وہ آج سیاسی طور پر آزاد ہو کر بھی مغرب کی غلامی سے نہیں نکل سکی ۔اس طرح شاعر کی یہ بات کہ “دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے” سو فیصد درست ثابت ہوئی۔ کہاں وہ زمانہ تھا کہ مسلمان جس ملک میں خواہ فاتح کی حیثیت سے گئے ہوں یا تاجر، معلم اور داعی کی حیثیت سے وہ اپنا نظام تعلیم ساتھ لے گئے۔ اس نظام تعلیم کے تحت انھوں نے اپنے بچوں کو بھی تعلیم دی اور اس وطن کے دوسرے لوگوں (غیر مسلموں) کو بھی۔ اور اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے ماحول کو بدل دیا۔ ملک کی علمی فضا اسلام کے حق میں ہموار ہوتی گئی۔ اور اس علمی غلبہ کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو سیاسی غلبہ بھی حاصل ہو گیا۔ایشیا اور افریقہ کے بیشتر ممالک میں سیاسی غلبہ مسلمانوں کی علمی فتوحات کے نتائج ہیں۔

 اب مسلمان مغرب کی ذہنی غلامی میں اس طرح مبتلا ہو گئے کہ ان کا ذہن اس بات پر سوچنے کے لئے بھی تیار نہیں کہ مغرب میں جو پبلک اسکول کا نظام رائج ہے اس کا متبادل بھی ہو سکتا ہے۔حالانکہ مغرب کے پاس “علم” نام کی کوئی شئے وجود ہی نہیں رکھتی ہے۔یہ جسے علم کہتے ہیں وہ “ہنر مندی”ہے۔علم اور ہنر میں بہت فرق ہے۔ علم کا تعلق انسانی جبلت سے ہے جب کہ ہنر کا تعلق حیوانی جبلت سے ہے۔ ایک انسان کو علم اور ہنر دونوں کی ضرورت ہے۔ لیکن علم کی حیثیت بنیادی اور ہنر کی حیثیت ذیلی ہے۔ایک بچے کے تعلیمی عمر کے ابتدائی کم از کم ۱۰ سال صرف علم کے لئے مختص ہونی چاہیے اور یہی اسلامی تعلیمی نظام کی اختصاص ہے۔ اسلامی تاریخ میں اسلامی نظام تعلیم کی یہ بھی خوبی تھی کہ وہ “یکساں” تھا۔ یکساں ان معنوں میں بھی کہ ان میں دین و دنیا کی کوئی تفریق نہ تھی اور ان معنوں میں بھی کہ غریب اور امیر سب کے لئے ایک تھی۔مسلمانوں کا تعلیمی نظام علم وحی اور علم اشیاءو کائنات میں کوئی تفریق نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ دونوں العالم کی طرف سے ہیں اور دونوں ہی معرفت الہی کے ذرائع ہیں۔ پوری کائنات المصور کی تخلیق و صناعی ہے۔ اس دنیا کے سب سے بڑے سائنسداں اوررسول برحق ابراہیمؑ نے ان پر صحائف کے نزول سے پہلے ہی کائنات(سائنس) کے مطالعے سے اپنے رب کو خوب اچھی طرح پہچان لیا تھا۔ مسلمانوں کے نزدیک علوم و فنون کی تمام قسمیں “علم اشیاء” کی شاخیں ہیں جو آدمؑ کی تخلیق کے ساتھ ہی ودیعت کر دی گئی تھیں (وعلم آدم الاسماءکلھا۔البقرہ:۳۱)،جو وقت کے ساتھ ساتھ نمو پذیر ہوتی رہیں اور اس کا پھیلاوُ اوراسرار قیامت تک جاری رہے گا۔مسلمانوں کے تعلیمی نظام نے انسانوں کو ادنیٰ اور اعلیٰ اور غریب اور امیر کے فرق کو قریب نہیں آنے دیا۔ چنانچہ تعلیم کی کبھی کوئی لازمی فیس طلباءسے نہیں لی گئی۔بلکہ اکثر مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ، قیام،طعام کتب اور وضائف کا بھی انتطام کیا جاتا تھا۔حصول علم فرائض اسلام میں شامل ہے اور فرائض کی تکمیل میں لازمی فیس یا لازمی چندہ نہیں لیا جاسکتا، ٹھیک اسی طرح جس طرح مسجد کے نمازیوں سے مسجد میں استعمال کی جانے والے پانی، بجلی، ہیٹنگ، کولنگ، اور تنخواہوں کے اخراجات کے باعث کسی سے لازمی فیس نہیں لی جاتی۔ ہر شخص حسب استطاعت اپنی مرضی سے چندہ دیتا ہے اور شمالی امریکا میں سالانہ کئی لاکھ ڈالر (کئی جگہ کئی ملین) کے مسجد کے اخراجات آسانی سے حاصل ہوتے ہیں ۔اگر تعلیم کے ساتھ مسلمانوں کا مسجد والایہی سلوک ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ اسکول کے لئے اس میں برکت نہ ڈالے۔

تعلیم کی موجودہ صورت حال

یورپ اور شمالی امریکا (بلکہ ساری دنیا) کے مسلم تعلیمی منتظمین نے اسلامی تعلیمی نظام کے ساتھ پہلا ظلم یہ کیا کہ انھوں نے مغربی نظامِ تعلیم میں دین و دنیا کی تفریق کو قائم رکھا بلکہ اسے اور مضبوط کیا۔ اب ایک تعلیمی منتظم فخر کے ساتھ کہتا ہے کہ اس کے اسکول یا مدرسہ میں “دین” کے ساتھ ساتھ “سیکولر تعلیم” کا بھی انتظام ہے۔یعنی انھوں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ علم “سیکولر” (خدا سے قطع تعلق) بھی ہو تا ہے۔حالانکہ علم اشیاءاور علم کائنات “ریگولر” (خداکی طرف سے براہ راست ہے) علم ہے۔ دوسرا ظلم یہ کیا کہ انھوں نے اسکول کی ایسی اقتصادی منصوبہ بندی کی کہ اس میں لازمی اور ایک عام آدمی کی استطاعت سے بہت اوپر فیس مقرر کی ۔ اس طرح ایک امیر شخص (عام طور پر اس کے یہاں اولاد بھی کم ہوتی ہیں) کے لئے تو اس میں داخلہ ممکن ہوتا ہے لیکن کم آمدنی ( مسلما نوں کی اکثریت) ان “اسلامی اسکولوں” میں اپنی اولاد کو نہیں بھیج سکتی۔

 اب اختصار سے اس نظام تعلیم کا جائزہ لیتے ہیں جو پبلک اسکولوں اور یونیورسیٹیوں میں رائج ہے۔ اور مسلم اسکولوں میں معمولی اضافہ یا حذف کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔

دنیا میں اس وقت شیطانی نظام کے غلبے کی اصل جڑ دنیا میں رائج نظامِ تعلیم ہی ہے۔اسے ہم مغربی نظام تعلیم ، سیکولر نظام تعلیم ، دنیا پرست نظام تعلیم یا کو ئی بھی نام دے لیں‘ اس کے موجد ابلیس اور اس کا مقصد نفس پرست اور دنیا پرست انسان بنانا ہے۔

مغربی نظامِ تعلیم کا مقصد اخلاق سے عاری ایک ایسے خود غرض انسان کی تعمیر ہے جو ساری عمر معاشی جدوجہد اور کشمکش میں مبتلا رہے۔ اس معاشی کارکن کے پاس نہ اتنی فرصت و صلاحیت ہو کہ وہ اس اعلیٰ مقصد حیات کے بارے میں سوچ سکے جس کےلئے اس کے خالق اور مالک نے پیدا کیاہے۔ ظاہر ہے معاش جو اسباب زندگی تھا مقصد زندگی بن گےا تو اس فتنہ نے انسان کو اس راہ پر لگا دیاجو ابلیس کا راستہ تھا اور جس کی آخری منزل جہنم ہے۔

دوسری طرف انسان کے خالق اور مالک کا منشا کچھ اور ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ جس طرح اس کائنات کی تمام دیگر مخلوقات اور ملائکہ بے چوں و چراں اپنے رب کے حکم کے تابع ہےں اور ذرا بھی انحراف نہےں کرتے اسی طرح انسان بھی ارادہ میں آزاد اور نا فرمانی کی صلاحےت کے باوجود اﷲ کے آگے جھکا رہے اور اسی کا حکم بجا لاتا رہے۔”زمین اور آسمان میں جس قدر جان دار مخلوق ہیں اور جتنے ملائکہ ہیں سب اﷲ کے آگے سربسجود ہیں ۔وہ ہرگز سرکشی نہیں کرتے۔ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے،ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کی مطابق کام کرتے ہیں“۔[سورہ النحل: ۴۹-۵۰]

دنیامیں رائج الو قت نظام تعلیم دراصل اﷲسے بغاوت اور سرکشی کا نظام تعلیم ہے اور اگر ہمیں اس دنیا کو بغاوت سے اطاعت کی طرف لے کر جانا ہے تو انسان سازی کے کارخانہ یعنی نظام تعلیم ، نصاب تعلیم اوراسکول کو بدلنا ہوگا۔ یہ کام کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے بہت مضبوط ایمان اور ارادہ کی ضرورت ہے۔ یہ کام شیطان کے ایک ”مستحکم “ کام پر بڑا حملہ ہے۔ ایمان اور ارادہ کی قوت سے انسان پہاڑ کو رائی بنا سکتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کے لئے اور ایسے کاموں کے لئے اﷲکی طرف سے مدد کا وعدہ ہے۔”اﷲ نے وعدہ فرماےا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کواسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔ ان کے لئے ان کو اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیگاجسے اﷲتعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے (یعنی اسلام اور ان کی موجودہ ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا۔بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں“[النور: ۵۵]

اس کام کے لئے مسجد کا انتخاب کیا جائے کیونکہ یہ وہ قلعہ ہے جہاں شیطان کا حملہ کمزور ہو جاتا ہے۔ ہمیں پہلی صدی ہجری کی مسجد۔ مدرسہ کی یکجائی کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔جو لوگ اونٹاریو ، کینیڈا میں رہ رہے ہیں ان کے لئے اس وقت ایمرجنسی جیسی صورت حال ہے۔Bill 31 کے قانون بننے اور نئے نصاب کے بعد پبلک اسکولوں میں بچوں کو ہم جنس پرستی کے طرف مائل کرنے کے لئے کے جی اور ایلیمنٹری اسکول سے ہی نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔اب اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ بچوں کو پبلک اسکول سے نکال لیا جائے۔بڑی تعداد میں بچوں کو نکالنے کے بعد ہی حکومت پرہوم اسکولنگ ٹیکس کریڈیٹ اور مذہبی اسکولوں کی پبلک فنڈنگ کے لئے دباوُ ڈالا جا سکتا ہے۔

آغاز

حضرت حسن بصری کا مقولہ ہے ”بچپن میں تحصیل علم، پتھر میں لکیر کی طرح ہے۔“ یوسف بن یعقوب بن الماجشون کا بیان ہے کہ ہم ابن شہاب سے مسئلے پوچھا کرتے تھا۔ ایک دن انھوں نے ہم سے کہا کہ”کم عمری کی وجہ سے اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو، کیونکہ حضرت عمر فاروقؓ کا دستور تھا کہ جب کوئی مشکل معاملہ آپڑتا ، نو عمروں کو بلا کر مشورہ کرتے اور ان کی تیز عقلوں سے فائدہ اٹھاتے۔ “ پہلے مرحلے میں ہر مسجد اور مصلہ مسلم کمیونٹی اور اسلامی سنٹرز مسلم کمیونٹی کی KG سے گریڈ ۸ تک کی تعلیم کی ذمہ داری لے لے(اگرکوئی غیر مسلم اپنی اولاد کو اس نظام میں ڈالنا چاہے اسے بخوشی داخلہ دیا جائے، ہر بچہ مسلم ہے کیونکہ وہ فطرت پر پیدا ہوا ہے اور اسلام دین فطرت ہے)۔ابتدائی اسکول KG سے گریڈ ۸ تک کی اجازت اونٹاریو میں بہت آسانی سے ملتی ہے اور ہر مسجد ،مصلہ اور اسلامی کمیونٹی سنٹریہ اجازت لے سکتا ہے۔ اجازت کے لئے صرف ایک آفس ایک کلاس روم اور۲ طلباءکے داخلہ کی شرط ہوتی ہے۔ مسجد اور مصلہ کی جگہ کو بھی آفس اور کلاس روم کے طور پر دکھایا اور استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ مسجد میں فی الوقت کوئی تبدیلی لائے بغیر (البتہ مستقبل میں ہر مسجد مدرسہ اسکول کی لازمی ضرورت کو سامنے رکھ کر تعمیر کی جائے۔ فجرسے ظہر(یا آٹھ بجے صبح سے دو بجے تک) مسجد کی جگہ کو cubicals میں تقسیم کرکے مختلف کلاس روم بنائے جائیں۔ ضرورت کے تحت دو یا تین گروپ (گریڈز) کو ایک ساتھ بیٹھایا جا سکتا ہے۔ بڑے اسلامک سنٹرز مسلم لڑکیوں کے لئے ہائی اسکول کا بھی انتظام کریں۔کیونکہ لڑکیوں میں ماحول سے متاثر اور ان میں جذب ہونے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

مقاصد

مدرسہ اسکول (دین و دنیا کی امتزاجی تعلیم) کے مندرجہ ذیل مقاصدہونے چاہئے۔

۱۔طلباءکے اندر بہترین تعلیمی صلاحیت پیدا کی جائے گی۔ یعنی طلباءریاضی، سائنس اور انگریزی میں مہارت حاصل کرکے پبلک اسکول میں اپنے ہم کلاس طلباءکے مقابلے میں واضح برتری رکھیں ۔

۲۔طلباءعلم وحی یعنی القرآن اور سنت رسولﷺ یعنی حدیث اور سیرت محمدﷺ ، سیرت انبیاء،سیرت صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کی بہترین اخلاقی تعلیمات سے روشناس ہوں ۔

۳۔طلباءکی اس طرح کردار سازی کی جائے کہ وہ اپنے اخلاق سے پورے معاشرے اور خصوصاً ہائی اسکول میں جاکرپبلک اسکول کے ماحول سے متاثر ہونےکے بجائے اسکول کے ماحول کو متاثر کریں ۔ان کی موجودگی سے ماحول میں اجالا ہو۔

۴۔ ان میں علم دین کا فہم اور ابلاغ کی ایسی صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ تدریجاً اسلام کے مبلغ بن جائیں۔

یعنی مدرسہ اسکول میں جانے والے طلباءو طلبات بہترین اکیڈمک صلاحیت ، بہترین اسلامی تعلیمات سے مزین اور اخلاق اور کردار کی برتری سے عمومی معاشرہ اور ہائی اسکول کے ماحول پر اپنی دھاک بٹھا ئیں اور اسلام کاچلتا پھرتانمونہ بن کر اسلام کے داعی بنیں۔

نصاب

مندرجہ بالا مقاصد کو سامنے رکھ کر نصاب و نظام کی تیاری آسان ہو جاتی ہے ۔ ہر استاد کو مقاصد تعلیم ازبر کرا دئے جائیں تاکہ وہ اسے سامنے رکھ کرمعلم کے فرائض انجام دے۔اس نظام میں عربی زبان (قرآنی عربی گرامر، زبان و ادب) پر خاص توجہ دی جائے اور اس میں مہارت پیدا کی جائے تاکہ طلباءاور طالبات پر علوم دین کے دروازے کھل جائیں۔ ماہرین کی رائے ہے کہ طلباءکے اندر عربی زبان سیکھنے سے ذہانت پیدا ہوتی ہے۔ کوشش کی جائے کہ عربی زبان کی تعلیم اہل زبان (عرب)سے ہی دلائی جائے۔اسی طرح انگریزی زبان کی تعلیم پر خاص توجہ دی جائے اور اس میں مہارت پیدا کی جائے۔انگریزی زبان دنیاوی علوم کے دروازے کھولتی ہے اور اہل وطن سے ابلاغ کو آسان اور موثر بناتی ہے۔ایک مبلغ قوم (مسلم)کے لئے مقامی زبان کا سیکھنا اور اس میں مہارت پیدا کرنا فرائض دینیہ میں شامل ہے۔ انگریزی تعلیم کو اہل زبان استاد کے ذریعہ سے ہی تعلیم دی جائے ۔ دوسرا آپشن ایسے اساتذہ ہیں جن کی بچپن سے یہیں (انگریزی زبان میں) تعلیم ہوئی ہو۔ اسی طرح ریاضی (Math)پر خاص توجہ دی جائے۔کیونکہ یہ دماغی گرہوں کو کھولتی ہے۔جس طالب علم کی عربی، انگریزی اور ریاضی کی تعلیم کی بنیاد بہت مضبوط ہو وہ زندگی کے کسی شعبہ میں ناکام نہیں ہوگا۔

اسی طرح اردو اور فار سی میں سے کم از کم کسی ایک زبان کی تعلیم طلباءکو علم دین کے ایک بڑے ذخائر تک پہنچاتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے بچوں کو اردو زبان سے محروم رکھیں جس میں ہمارا علم و ادب و تاریخ رقم ہے؟

 نصاب کی تیاری میں ہر قسم کے “تعصب” سے اپنے کو دور کریں۔ تعصب علم کا دشمن ہے۔علوم اشیاءجو ہر وقت وسعت پذیر ہے ان میں ابن آدم کے کسی قبیلے یا گروہ نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس سے ہر مسلم کو استفادہ کرنا چاہئے۔ اس میں تعصب مناسب نہیں۔ا سی طرح علوم دین اور معاشرت میں اگر یک مسلکی اور یک مدرسی رویہ اختیار کیا جائے گا تو مقاصد تعلیم کاحصول ناممکن ہو جائے گا۔نصاب کو تیار کرنے والوں کو شہد کی مکھی کی طرح گلستان علم و ادب کے ہر پھول سے رس نچوڑنا ہوگا۔ اور مختلف خوبصورت پھول ہر یا بہت سے باغوں میں موجود ہے۔

ہر بچہ مسجد میں داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز نفل ادا کرے ۔ اس کے بعد بچوں اور اساتذہ کی اسمبلی ہو جس میں بآواز بلند ہر فرد سورہ فاتحہ (صراط مستقیم کی دعاء)، سورة اخلاص( توحید خالص کا اقرار اور اعلان) اور درود شریف ( اللہ اور فرشتے بھی رسول ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اس طرح طلباءکے دل اللہ اور اسکے رسولﷺ کی محبت سے لبریز ہو جاتے ہیں )، اس کے بعد معروف قرآنی دعاء”ربّنا اٰتنا فی الدنیاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ اس کے بعد ایک ترانہ ۔نشید گا کر پڑھا جائے۔ میرے نزدیک علامہ اقبالؒ کی نظم “لب پہ آتی ہے دعاءبن کر تمنا میری“ بہترین ترانہ ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی موجود ہے۔ لیکن اسے اردو میں ہی پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔ آخر میں پرنسپل (منتظم) نصیحت ، کوئی اعلان، کچھ تاکید وغیرہ کرے۔ابتدائی گھنٹے قرآن اور عربی زبان کے لئے مختص ہونی چاہئے۔

قرآن کی تعلیم کا آغاز ناظرہ اور تجوید سے ہی ہواور وہی طریقہ رائج ہوجو بیشترمدارس اور مساجد میں رائج ہے اور کم از کم ایک، ڈیڑھ پارہ کے برابر قرآن کی خاص اور ضرور ی سورتوں کے حفظ کے بعد عربی زبان کی تعلیم بہترین دستیاب استاد کی نگرانی میں شروع کی جائے۔ ان علوم میں طلباءکو کلاس کے ساتھ نہیں کتاب کے ساتھ چلایا جائے۔ یعنی اگر ایک طالب علم ایک کتاب ، یا ایک علم جلد حاصل کر لے تو اس کو آگے بڑھا دیاجائے۔نہ کہ اسے اپنے گریڈ کے ساتھ چلنے پر مجبور کرکے اس کی رفتار کو سست کیا جائے۔

ایک مضمون نئے عنوان (Wisdom of Islam)”حکمت اسلامی” کے تحت پڑھایا جائے۔اس کے عنوانات تو وہی ہوں جو قرآن و حدیث کے عنوانات ہیں یعنی اعتقادات، عبادات، معاملات،اخلاقیات،معاشرت،معیشت،معاشرتی آداب، اجتماعی معاملات، امر و نہی اور جنت و دوزخ وغیرہ۔ البتہ اسے پڑھایا اس طرح جائے گا کہ نوجوان اور نوخیز ذہنوں میں اٹھنے والے ہر سوال کا کافی اور شافی جواب مل جائے اور یہ طلباءاس لائق ہوں کہ نہ صرف وہ خو د اسلام کو ایک مکمل ضابط حیات کی شکل میں اپنی زندگیوں میں نافذ کریں ۔بلکہ اسلام اور اس کے اعتقادات اور معاملات کے بارے میں اٹھائے جانے والے ہر اعتراض اور پروپیگنڈا کا مقابلہ بھی کر سکیں اور جواب بھی دے سکیں۔ یہاں استاد طلباءکو زیادہ سے زیادہ سوالات اٹھانے اور مباحثے میں حصہ لینے کا موقع دے اور ہر طالب علم کی کلاس میں عملی شرکت (participation)کو یقینی بنائے۔ یہ کلاس علمی ورکشاپ کے طور پر چلائی جائے اور ہر طالب علم بیک وقت استاد بھی ہو اور شاگرد بھی۔

اس مضمون کے تحت چھوٹے بچے طہارت،وضو،عبادات کے طریقے، اسلامی آداب ،والدین،اساتذہ،بڑوں اورچھوٹوں کے ساتھ سلوک اور رویوں کی تعلیم وتربیت حاصل کیں ،جب کہ بڑے بچے اجتماعی معاملات، اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت، اسلامی معیشت، اسلامی سیاست، ریاست ،خلافت اور اسلام کے امن اور انصاف کے تصورات جیسے موضوعات پر تعلیم حاصل کریں ۔ اسکے لئے مختلف عمر کے بچوں کے لئے نصاب تیار کئے جائیں اور کتابیں شائع کی جائیں یا پہلے سے دستیاب کتابوں میں سے انتخاب کیا جائے۔اس مضمون میں نصاب اور غیرنصاب دونوں سے مدد لی جائے۔ مثال کے طور پرکسی اخبار،رسالہ یا کسی اور میڈیا میں شائع یا نشر ہونے والے کسی متعلقہ مضمون پر گفتگوکی جا سکتی ہے۔

ا س موضوع کے استاتذہ اور طلباءدونوں اپنے آنکھ اور کان کھلی رکھیں گے اور حالات حاضرہ اور جس ریاست اور ملک  میں وہ رہتے ہیں ان کے بارے میں بھرپور معلومات رکھیں ۔

مسجد کے اندر تعلیم و تعلم کا مختلف سلسلہ فجر سے عشاءتک جاری رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر مدرسہ اسکول صبح ۸ بجے سے ظہر کی نماز تک مکمل ہو تو اس میں طلباء، اساتذہ ، والدین اور منتظمین سب کےلئے آسانی ہے ۔

ماہ یا دو ماہ میں ایک دن فیلڈ مطالعاتی ٹرپ اور اچھے موسم میں کسی تفریحی اور خوبصورت مقام پر تمام طلباءاور اساتذہ جمع ہوں ۔ اس پروگرام کے لئے نئے اور خاص اساتذہ اور تربیت کار اور نوجوانوں میں مقبول علماءبھی بلائے جا سکتے ہےں ۔اس آوٹ ڈور پروگرام میں اسلامی آداب و اخلاقیات کی تربیت،تزکیہ نفس، حصول تقویٰ اور احسان کے طریقے ،حقوق العباد، غیر مسلمین، مشرکین ،اہل کتاب اور ہم وطنوں کے بارے میں معلومات، اور ان کے اندر دعوت اسلامی اور تبلیغ کی خواہش پیدا کرنا۔ یہ ایک طرح کا تربیتی پروگرام ہو جس میں طلباءکے اندر تقریری ، تحریری قیادتی ،تخلیقی ،انتظامی اور اجتماعی عمل کی صلا حیتوں کی بےداری اور تربیت شامل ہو ۔

مدرسہ اسکول گریڈ ۴ تک کلاسزطلباءاور طالبات کے لئے ایک ساتھ ہو ں اور گریڈ ۵ سے ۸ تک علیحد ہ ہو ں۔ اوربچیوں کو خواتین اساتذہ اوربچوں کو مرد اساتذہ پڑھائیں۔

چونکہ تعلیم کا عمل ایک عبادت ہے اور زرخیز زمین میں ہی اچھی فصل لہراتی ہے اس لئے اساتذہ اور طلباءکو کلاسز میں دوران تعلیم حالت وضو میں رہنے کے لئے کہا جائے۔ اس اسکول کا ہر پروگرام ظاہری اور باطنی طہارت،پاکیزگی اور تقویٰ کے ماحول میں منعقد ہو گا اور طلباءاور اساتذہ طہارت اور وضو کے اہتمام کے ساتھ پروگرام میں شامل ہوں گے۔تعلیم اور تعلم کا یہ عمل عبادت ہے چنانچہ طالب علم اور استاد دوران کلاس اپنے کوعملاََحالتِ عبادت میں تصور کریں گے۔ اس نظام کے تمام شرکاءیعنی طلباء،اساتذہ، تربیت کار،والدین اورمنتظمین کو مدرسہ اسکول کے مقاصد ہمیشہ اور ہر وقت ذہن میں رکھنے ہوں گے۔

اساتذہ

مدرسہ اسکول میں تعلیم کے اصول سے واقفیت اور ان کا اعلیٰ اخلاق اورتقویٰ کے معیار پر پورا اترنا اور ہر قسم کی جاہلی عصبیت سے مبرا ہونا ہے۔تقویٰ ظاہری شکل و صورت کا نام نہیں بلکہ خدا خوفی، حبِ الٰہی اور اس قلبی ماہیت کا نام ہے جہاں لاالہٰ الااﷲمحمدالرسول اﷲ کی صدائے بازگشت جاری رہتی ہے۔

واضح رہے کہ مدرسہ اسکول کےلئے صحیح اساتذہ کا تعین اور انتخاب ہی اس نظام کی کامیابی کی کنجی ہے ۔ کسی بھی تعلیمی نظام کے دو اہم اجزاءطلباءاور اساتذہ ہی ہوتے ہیں۔طلباءکی تعلیم کی خواہش اور اساتذہ کی معلمی کی صلاحیت ہی نظام کی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔

یہاں ایک بار پھریہ اعادہ ضروری ہے کہ اساتذہ اس نظام تعلیم کے مقاصد کو ہمےشہ سامنے اور ہمہ وقت پیشِ نظر رکھیں کہ تعلیم کی عملی عبادت کے ذریعہ ایک طر ف ا نھیں بچوں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہے اور دوسری طرف نئی نسل کو عقیدہ، ایمان،رسولﷺکے ذریعہ حاصل علوم و احکامات، تہذیبی روایات، اپنی تاریخ ، سلف صالحین اور اسلامی ہیروز کے کارناموں کو نئی نسل تک پہنچانا ہے،جدید جاہلیت کے چیلنجز کامقابلہ کرنا ہے۔ اور انہیں داعی الی اﷲ بنانا ہے۔

کوسش کی جائے کہ مدرسہ اسکول کو بڑی تعداد میں اعزازی ٹیچر ملیں۔نہ ملنے کی صورت میں یا چند ناگزیر اساتذہ کے لئے تنخواہ کا انتظام کیا جائے ۔

بجٹ، فیس اور اعانت

طلباءسے لازمی فیس کے تصور کو ختم کیا جائے۔ چونکہ مسجد کی جگہ استعمال ہو رہی ہے اور کوئی کرایہ ادا نہیں کیا جا رہا ہے۔اعزازی ٹیچر کی ایک تعداد بھی اسکول کے بجٹ کو کم کر رہی ہے۔ اس مدرسہ اسکول کے اخراجات کے لئے مسلمانوں سے اجتماعی چندہ کیا جائے نہ کہ طلباءسے لازمی فیس لی جائے ۔یعنی والدین اور رضائے الٰہی کے حصول کے طلبگارافراد اپنے دل کو بڑا کر کے مدرسہ اسکول میں اعانت کی ایک ماہانہ رقم خودمقرر کرتے ہوئے طے شدہ تاریخ کوہ یہ رقم ادا کر دیں۔

ٹورانٹو میں ایک گروپ نے اسکول بنا کر فیس کا ایک قابل عمل نظام بنایا ہے۔ یہ فیس آمدنی کے حساب سے ہے۔ یعنی جن کی سال کی ۰۴ ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ آمدن ہے انھیں۱۰۵  ڈالر فی طالب علم، جن کی اس سے نیچے اور ۲۰۰۰۰ سے اوپر ہے ان کے لئے۰۰ ۱ ڈلر اور ۲۰۰۰۰  ڈالر سے نیچے کی آمدنی پر ۷۵ ڈالر۔یہ ایک قابل عمل صورت ہے۔ مجبوری میں اس پیٹرن کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاہم میری رائے ہے اور امید یہ ہے کہ پہلی صورت میں اللہ تعالیٰ بہت زیادہ برکت ڈالے گا۔جس تعلیم کے لئے یہ طلباءنکلیں گے اس کے بارے میں حدیث یہ ہے کہ بروایت ابوالدرداء”میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ جو بندہ علم کی تلاش میں نکلتا ہے، فرشتے اس کے لئے اپنے پر رکھ دیتے ہیں”۔حضرت ابو سعید حذری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “جو کوئی طلب علم میں نکلتا ہے ، فرشتے اس کے لئے دعاءکرتے ہیں اس کی معیشت میں برکت ہوتی ہے۔ اس کا رزق گھٹتا نہیں ، مبارک ثابت ہوتا ہے۔”جس نظام کی معیشت کے حق میں اللہ اور اس کے ملائکہ معاون بن جائیں اسے کون روک سکتا ہے، اور اس کے وسائل میں کیسے کمی آسکتی ہے؟

اساتذہ کی تربیت

اسکولوں کے اساتذہ اور منتظمین کے لئے مقامی سطح پر یاضلعی اور صوبائی سطح پر ہر چھ ماہ یا ایک سال میں ایک سے دو ہفتہ کی ٹریننگ کا انتظام کیا جائے۔ جس میں ملی درد رکھنے والے اسلامی تعلیمی، اور دیگر شعبوں کے ماہرین کومدعو کیا جائے۔

اختتامی کلمات

ہم نے مدرسہ اسکول کے تصور، نظام تعلیم اور اس کے نصاب کو انتہائی سادہ،آسان اور ممکن العمل بنا کر اسے سادہ الفاظ میں تحریر کر دی ا ہے۔کوئی استاد، اہل علم ، ماہر تعلیم اپنے مشورہ کے ذریعہ  اسے مزیدبہتر اورقابل عمل بنا سکتا ہے۔ ہم ایسی ہر تجویز کاخیرمقدم کریں گے۔ اور اسے آگے اشاعت بھی کرےں گے ۔( مدرسہ اسکول کا منصوبہ صرف اونٹاریو یا کینیڈا اور امریکا تک ہی محدود نہیں، ہندوستان، پاکستان سمیت دنیا میں ہر جگہ ان بنیادی اصولوں کی بنیاد پر ان اسکولوںکو قائم کیا جا سکتا ہے)۔

عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ”نبیﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو جس کے ساتھ بھلائی منظور ہوتی ہے، دین میں اسے سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔“

“اے ہمارے رب اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے کام مےں اچھی صورت مہیا فرما۔”[الکہف :۱۰]

”اے میرے رب مجھے علم میں بڑھا دیجئے۔“[طٰہٰ ۔۱۱۴]

[سیدجاوید انور سیرة اسکول آن لائن میگزین کے پبلشر اور ایڈیٹر اورسیرة اسکول متبادل نظام تعلیم کی تحریک کے بانی ہیں۔ ان کے دیگراردو اور انگریزی مضامین کے لئے seerahschool.com پرجائیں]


´

Bookmark and Share
Print This Post Print This Post

You must be logged in to post a comment Login