TopSecurity

اونٹاریو کینیڈا کا تعلیمی نظام:کس طرح کی نسل تیار ہوگی؟

جاوید انور

نارتھ امریکا کی مسلم آبادی کی اکثریت کے نزدیک مسجد کی تعمیر سب سے بڑے ثواب کا کام ہے۔ نہ صرف اس کی تعمیر پر بلکہ تزئین و آرائش اور بلند مینار کے لئے بھی لاکھوں ڈالر آسانی سے خرچ کر دیتے ہیں اورسیکڑوں گھنٹے رضاکارانہ کام بھی کرتے ہیں۔لیکن کیا وہ ایک لمحے کے لے بھی یہ سوچتے ہیں کہ ان کی تیسری نسل کیا اس لائق بھی رہے گی کہ وہ ان مسجدوں میں نماز پڑھ سکے؟

 اسی مسلم آبادی کا ایک دوسرا طبقہ وہ ہے جو فلاحی اور تفریحی اداروں میں سرگرم نظر آتا ہے۔ انہیں ہر وقت یہ غم کھائے رہتا ہے کہ فلاں کمیونٹی کے کھیل کود کے مراکز تو موجود ہیں مگر مسلمانوں کے اپنے نام سے ایسے مراکز کیوں نہیں۔ان کو یہ بھی دکھ ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسے مراکز کے لےے فنڈ ہونے کے باوجود ہمارے لوگ اس حکومتی نوازش سے محروم ہیں۔لیکن کیا یہ فلاحی و تفریحی ادارے اس کے اپنے بچوں اور اپنی آئندہ نسل کی ایمان کی دولت کو بچا سکیں گے؟

اسی مسلم آبادی کا ایک چھوٹا سا گروپ وہ ہے جو مسلمانوں کو یہ بتا رہا ہے کہ کچھ کرو نہ کرو ووٹ ضررور ڈالو۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کی جنت اور جہنم کا مدار ووٹ ڈالنے پر ہے۔ حالانکہ ووٹ کے حوالے سے واضح طور پر بین دلائل کے ساتھ یہ نقطہ نظر بھی موجود ہے کہ سیکولرزم، نیشنلزم اور لبرل جمہوریت، دور جدید کے تین بڑے سیاسی بت ہیں اور ووٹ ڈالنا گویا ان کو تقویت پہنچانا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق ووٹوں کے ذریعے نافذ ہونے والا جمہوری نظام اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی بجائے انسانوں کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے۔ اس لئے اس میں شریک ہونا خالص شرک ہے۔

پھر ایک طبقہ وہ بھی ہے جس کے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کا واحد راستہ اچھی ملازمت ہے۔یہ طبقہ ہمہ وقت مسلمانوں میں دنیاوی تکنیکی تعلیم اور ملازمت کے معاملات کا غم اٹھائے چلتا ہے۔اس غم کے مداوے کے لےے وہ حکومتی فنڈنگ حاصل کرنے کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔

 ان میں سے میں کسی بھی طبقہ کی فکر اور جدوجہد کے حوالے سے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔جس کی جتنی ہمت اور جتنا شعور ہے وہ اس کو ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی مفاد میں صرف کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیت کا اجر اسے دے گا۔ لیکن میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کے99.5 فی صد بچے جو پبلک اسکول میں جارہے ہیں وہ اس تعلیمی نظام، نصاب ، اورماحول کی مشین میں ڈھل کر کیا بن کر نکلیں گے؟ وہ کس طرح کا لائف اسٹائل اختیار کریں گے یا کر سکتے ہیں؟ وہ اپنے دین، اقدار، اور اخلاق سے کتنے دور یا قریب ہوں گے؟ کیا آپ کو معلوم ہے آپ کے لاڈلے اس نظام تعلیم میں داخل ہو کر اپنے ایمان کا کتنا فی صد حصہ بچا سکیں گے؟ ان بچوں کی اگلی نسل اس کا کتنا حصہ بچا سکے گی؟ کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ کینیڈا کی اس خوشحالی کے ساتھ ساتھ کیسی زہریلی مسموم روحانی ہوا ئیں چل رہی ہیں جو تباہی کے کیسے کیسے اسباب رکھتی ہیں؟

 ہمارے ووٹ کی” فرض کی ادائیگی کے نتیجے میں  2003 میں   کیتھلین وئن، ڈان ویلی ویسٹ سے اونٹاریو صوبائی اسمبلی کے لئے حکمراں لبرل پارٹی کی طرف سے منتخب ہوئیں تھیں۔مختلف عہدوں سے ترقی کر کے وہ 18ستمبر 2006کو وزیر تعلیم بن گئیں۔ انھیں بہت سارے” اعزازات“ حاصل ہیں۔ مثلاً انھیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ صوبہ کی پہلی اعلانیہ ” لیسبین“ ( زنانہ ہم جنس پرست) کابینہ وزیر ہیں۔ اور ہم جنس پرست کمیونٹی میں سے دوسری ہم منصب جارج سمدر مین( اعلانیہ ”ہم جنس پرست “کابینہ وزیر، جو گزشتہ ٹورانٹو سٹی نتخاب میں میئر کے امیدوار بھی تھے اور جن کی حمائت میں مسلمانوں کے کئی سرکردہ رہنما بزرگ امام اور مساجد کے صدور سرگرم تھے اور ان کے ووٹ کے لئے بار بار اپیلیں کر رہے تھے)، دوسری کابینہ وزیر تھیں۔کیتھلین وئن اور جارج سمدرمین کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان لوگوں نے تاریخ میں پہلی بار ہم جنس پرستوں کے مابین شادی کا نہ صرف تصور پیش کیا بلکہ کینیڈا میں پہلی بارہم جنس پرستوں کی باہمی شادی کا قانون اونٹاریو اسمبلی سے پاس کرا یا۔ ہم جنس شادی (Same sex marriage) کی چیمپین کیتھلین وئن جب 2008 کے صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں دوبارہ امیدوار بن کر آئیں تو تھارن کلف کی مسجدکے منتظمین نے ان کے لئے اپنے سینے وا کئے، اور پوری مسلم کمیونٹی ( چند استثناءکو چھوڑ کر) نے ان کی بھرپور حمائت کی اور ایک بار پھر ان کی اور لبرل پارٹی کی صوبائی حکومت قائم ہو گئی اور وہ وزیر تعلیم برقرار رہیں۔ انھیں یہ ”فخر“ تھا کہ ان کے ساتھ نہ صرف مذہبی طبقات خصوصاً مسلم کمیونٹی شامل ہے بلکہ ان کی بھرپور اور فعال حمائت بھی انھیں حاصل ہے۔

ہم جنس شادی کے قانون کے بعد وہ اپنے اس آ خری ہدف کی طرف قدم قدم آگے بڑھ رہی تھیں کہ ان کے صوبہ انٹاریو کا ہر فرد اس لائف اسٹائل کو اپنا لے جس پر وہ نہ صر ف عامل ہیں بلکہ اس کی متحرک مبلغ بھی ہیں۔ کسی بھی لائف اسٹائل کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کے لئے اسے تعلیمی نصاب اور تعلیمی کلچر کا حصہ بنانا ضروری ہوتا ہے۔ چنانچہ تین سال کے اندر اندر جنسیات کا نیا نصاب تیار ہو گیا۔ اس نصاب کے اعلان سے والدین کی طرف سے ممکنہ شدید ردعمل کے باعث ”ہشیار“ وزیر تعلیم نے چند ماہ قبل اپنی وزارت تبدیل کرا لی۔ 18جنوری 2010 کو وہ وزیر ٹرانسپورٹ بنیں اور اپریل 2010 کو جنسی تعلیمات کا نیا نصاب آگیا۔ اس نصاب کے تحت 11 سال کے بچوں کوتمام غلاظت آمیز جنسی طریقوں (Oral and anal)سے واقفیت کرائی جائے گی، اس نصاب کے تحت 8 سال کے بچے کو اپنی جنسی شناخت اور رحجان کے لئے کہا جائے گا۔ انھیں یہ بتایا جائے گا کہ جنس کے حوالے سے جو بظاہر نظر آتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ویسا ہی ہو، اور استاد انھیں بتا سکتا ہے کہ ایک باپ کے برعکس تمہاری دو مائیں اور دو باپ بھی ہو سکتے ہیں اور تم بھی یہ طریقہ اختیار کر سکتے ہو۔ اس نصاب کے تحت گریڈ1 کے بچوں کو جنسی اعضا کی شناخت کرائی جائے گی جب کہ اس سے قبل صرف جسمانی اعضاءکا نام پڑھایا جاتا تھا۔ گریڈ 3 کے بچوں کو تمام قسم کے جنسی رجحان اور شناخت کی تعلیم دی جائے گی۔انھیں بتایا جائے گا کہ مشت زنی ایک قدرتی اور معمول کا فعل ہے ۔

اونٹاریو وزارت تعلیم نے ہیلتھ اور فزیکل ایجوکیشن کے تحت جس جنسی تعلیم کے نصاب کا اعلان کیا اور جن کا انطباق 2010 کے تعلیمی سال ستمبر سے ہونا تھا، اسے اونٹاریو کے زیادہ تر اسکول بورڈز نے اس کے زیادہ تر حصے کواسی سال سے اپنایا، جب کہ بعض بورڈز نے ردعمل کے باعث تدریجاً نافذ کیا۔اس نصاب کے بنانے والے شیطانی دماغوں کو یہ پہلے سے اندازہ تھا، کہ اس نصاب کے باعث بچوں  میں جو ذہنی خلجان ہو گا اس سے اسکول میں بڑے مسائل پیدا ہوں گے چنانچہ اس لائف اسٹائل کو اپنانے والے بچوں کو ”خود ساختہ“ اور ” ممکنہ“ خطرات کے باعث پہلے سے ہی اسکول میں ”گے “ بچوں کے خلاف غنڈہ گردی (bullying)کا سوال کھڑا کر کے خوب شور مچایا گیا۔ اس طرح کے بچوں کی حفاظت کے نام پر ان کی کھلی جنسی آزادی، اور ان میں شرم کے بجائے ڈھٹائی پیدا کرنے کے لئے ہر اسکول میں ایک ٹیچر کو اس کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔اسی ممکنہ شرم یا جھجک کو ختم کرنے کے لئے جسے حکومت ڈھٹائی کے ساتھ bullying کا نام دے رہی ہے ، نے اونٹاریو اسمبلی میں بل 13 لے کر آئی ہے جس کا مقصد تمام اسکولوں میں gay and   straight alliances club  کا قیام ہے۔جنسی تعلیم کا نصاب اور ایسے کلبوں کا قیام ان تمام اسکولوں کے لئے لازم ہو ں گے جو پبلک فنڈز سے چل رہے ہیں۔لیکن ٹورانٹو کا کیتھولک پبلک اسکول بورڈ اس کی مخالفت کر رہاہے۔ اس حوالے سے کیتھولک چرچوں میں بھی اس نظام کے خلاف تحریک چل رہی ہے۔ تاہم بل 13 کے پاس ہونے کے بعد وہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔

یہودیوں کے بچے یہودی پرائیویٹ کمیونٹی اسکولوں میں پڑھتے ہیں، کیتھولک اسکولز مدافعاتی جنگ لڑ رہے ہیں، دوسرے مذاہب اور لامذہبوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ عام مسلم لاعلمی کے با عث خاموش ہیں۔ان کے سیاسی کارکنان پارٹی کے غلام ہیں ( واضح رہے کہ جنسی نصاب کے خلاف اٹھتی ہوئی آواز کو دبانے کی مہم میں جب کیتھلین وئن ہمارے علاقے کے ایک اسکول میں آئیں تو تھارن کلف کی مسجد کے ذمہ دار جو لبرل پارٹی کے لئے مسجد کے دربان بھی ہیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کا بھرپور دفاع کیا تھا)۔ جبکہ بدقسمتی سے دیگر علماءاور دانشور کا یہ موضو ع ہی نہیں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ موضوع فوری توجہ اور انقلابی فیصلوں کا متقاضی ہے۔ والدین کا اپنے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہونا اور متحرک رول ادا کرنا، ہمارا اور ہماری اولاد کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ اس ملک میں ہماری نسلوں کا مستقبل ہمارے آج کے فیصلے پر منحصر ہے۔

میرے نزدیک ہمیں مندرجہ ذیل لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا:

دفاعی

۱۔پبلک اسکول میں جانے والے بچوں کے والدین سیشن کے شروع میں (ستمبر) ہی پرنسپل اور ہیلتھ اورفزیکل ایجوکیشن کی ٹیچر کو جنسی تعلیم کے کلاس سے اپنے بچے کو مستثنیٰ کرانے کے لئے درخواست جمع کرائیں۔مذہبی بنیاد پر استثنیٰ کا اختیار آپ کو حاصل ہے۔

۲۔ جنسی نصاب اور بل 13کے خلاف اسکول کونسلوں میں ایجنڈا لایا جائے اور بار بار لایا جائے۔ اسکول کونسلوں کے تمام اجلاس کی کاروائی کو اسکول کے ویب پر پوسٹ کرایا جائے ( اسکول کونسل کو یہ حق حاصل ہے) اسکول ٹرسٹیز، اسکول بورڈ سپریٹنڈنٹس superintendentsایم پی ایز (MPAs) اور وزارت تعلیم (اونٹاریو) میں فون اور ای میل کے ذریعہ اپنے ردعمل کا اظہار کیا جائے۔

۳۔ ریڈیو اور ٹی وی ٹاک شوز میں حصہ لے کر اور اخبارات میں ایڈیٹرز کو خطوط لکھ کر اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی جائے۔

۴۔جنسی نصاب اور بل 13کے خلاف ہم خیال گروہ مثلاً کیتھولک عیسائیوں کے ساتھ سیاسی اور سماجی تحریک چلائی جائے۔ اس بل کے تمام حمائتی سیاستدانوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ خصوصاً کسی بھی دنیاوی بہانےیا مجبوری کے تحت ان کی انتخابی مہموں کا حصہ بننے کی بجائے ان پر واضح کیا جائے کہ ہم اس دنیا کی خاطر دائمی عذاب مول نہیں لے سکتے۔ نہ ہی اپنی وقتی سہولت یاتسکین کی خاطر اپنی آنے والی نسلوں کے بگاڑ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ حکومت پر واضح کر دیا جائے کہ اب ہمارے پاس پبلک اسکول سسٹم کے مکمل بائیکاٹ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

اقدامی

۱۔ حکومت پر واضح کر دیا جائے کہ وہ عوام کی امنگوں اور والدین کی خواہشات کے مطابق تعلیمی نظام بنانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، چنانچہ مختلف عقائد کے لوگوں کو پبلک فنڈز سے اپنا نظام تعلیم بنانے اور چلانے کی اجازت دی جائے۔ یہ ہمارا ہی ٹیکس ہے اور ہمیں اپنے ٹیکس سے اپنی مرضی کا نظام چلانے کا اختیار ہونا چاہئے۔ کیتھولک پبلک اسکول کو اپنا نظام اپنے عقائد کی بنیاد پر چلانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اسی طرح دوسرے عقائد ی گروہوں کو بھی پبلک فنڈ سے اسکول بورڈ ز اور اسکولزبنانے اور چلانے کی اجازت ہونی چاہئے۔

۲۔ مسلمانوں کو اپنے بچوں کی متبادل تعلیم کے لئے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے ۔پہلے مرحلے میں KG to 8th grade اور دوسرے مرحلے grade 9 to 12th میں  کی تعلیم کا سو فیصد انتظام اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا ۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم مفت اور معیاری ہو۔ ہمیں مسجد کو اس کام کے لئے استعمال کرنا ہوگا جہاں فجر سے لے کر عشاءتک تعلیم اور تعلم کا سلسلہ جاری رہے۔ہمیں    مسجد، مدرسہ (اسکول) کے امتزاج کی صدیوں پرانی روائت کو زندہ کرنا ہوگا۔حصول علم فرض ہے اور فرائض کے معاملے میں لازمی فیس کا کوئی تصور نہیں۔جس طرح پانچ وقت کے نماز کے لئے مساجدکے دروازے چندہ دینے اور نہ دینے والے دونوں کے لئے کھلے ہوتے ہیں،اسی طرح اسکول بھی فیس دینے اور نہ دینے والے دونوں کے لئے کھلے ہوں گے۔ اسی طرح جس طرح سامراجی نوآبادیات سے پہلے یہ پوری دنیا میں صدیوں سے کھلے تھے۔جس طرح اللہ تعالیٰ مسجد کی تعمیر اور اس کے تسلسل میں برکت ڈالتا ہے اسی طرح تعلیم کے حوالے سے بھی نیت کی تبدیلی کے بعد اللہ برکت ڈال دے گا۔بس اس کے لیئے صاف دل اور نیک ارادہ ہونا ضروری ہے۔

[جاوید انور تھارن کلف پارک پبلک اسکو ل، ٹورانٹو کے سابق منتخب چیرمین اور سیرة اسکول تحریک کے بانی ہیں۔ان سے   seerahschool@gmail.com    پر رابطہ کیا جا سکتا ہے]

Bookmark and Share
Print This Post Print This Post

You must be logged in to post a comment Login