TopSecurity

سیرة مشن اسکول: ایک نیا نظامِ تعلیم و تربیت اور دین و دنیا کا حسین امتزاج

سید جاوید انور

 ہم نے ۲۰۰۹ ءسے جس تعلیمی تحریک کا آغاز کیا تھا، وہ اب برگ و بار لا رہی ہے۔ہم نے ہر اسلامی مرکز اور مسجد میں گریڈ ۸ تک اسلامی اسکول کے قیام کی تجویز دی تھی۔ وہ مضامین آفاق اور seerahschool.comپرپوسٹ کئے جاتے رہے۔الحمد للہ اب کئی مساجد اور اسلامی مراکز سے اسکول کے قیام کا مژدہ سنائی دے رہاہے۔گزشتہ دو سالوں میں بہت سی مساجد میں اسکولوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔ یہ ایک خوش آئندبات ہے لیکن زیادہ تر یہ اسکول بھی نوآبادیاتی دور کی طرح صرف ماحول سے بچاوُ، خوف اور تحفظ والی ذہنیت کے تحت ہیں۔یعنی دینی مدارس کا قیام دنیوی تعلیم کے ملمع کے ساتھ (دیوبند ) یا جدیدتعلیمی درسگاہ کا قیام دینی تعلیم کی پیوند کاری کے ساتھ(علی گڑھ)۔یہ دونوں نمونے اب آزاد ممالک میں چلنے والے نہیں۔ کینیڈا ، امریکا اور مغربی ممالک میں بہت سی مثالیں ہیں کہ بچے ابتدائی مدارس میں تعلیم حاصل کرکے ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹی پہنچ کر دہرئیے بن گئے  اوردینی گھرانے میں جوان ہوئی لڑکی نے عیسائیت قبول کرلی ۔نئے حقائق اور نئے ماحول میں ایک نئے تعلیمی نظام کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ سیرة مشن اسکول کا آغاز اسی ضرورت کے تحت ایک ماڈل اسکول کے طور پر وجود میں آیا ہے تاکہ تمام نئے اسکول اس نمونے کے تحت قائم ہوں۔ ستمبر۲۰۱۳ ءمیں تھارن کلف پارک ڈرائیو میں دو کمرے سے شروع ہونے والا یہ اسکول الحمد للہ اب ایک وسیع عمارت ، ڈان ویلی اور لارنس ایونیو کے درمیان ریل سائڈ روڈ پرواقع مسجد الانصار کی پراپرٹی پر منتقل ہو چکا ہے۔

 یہاں ۱۰ کلاس رومز اسکول کے دیگر تمام ضروری لوازمات کے ساتھ قائم کی گئی ہیں۔انشاءاللہ ستمبر ۲۰۱۴میں جے کے سے گریڈ ۸ تک کی کلاسیں شروع ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر اسکول کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔جس کا خلاصہ اور ہدف یہ ہے کہ بچے ابتدائی نظام تعلیم سے گزر کر جب ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں جائیں تو ان میں چار خصوصیات پائی جائیں۔

 ۱۔وہ دنیاوی تعلیم میں دوسرے طلباءسے بہتر ہوں۔

۲۔ وہ اخلاق و کردار میں سب سے بلند ہوں۔

۳۔ان کا دین اسلام پر ایمان اپنے علم و فہم کی بنیاد پر ہو اوروہ عملی مسلمان ہوں۔

۴۔ان کے اندردین کی تبلیغ و اشاعت کی خواہش و جذبہ ہو اور وہ ابلاغی صلاحیت بھی رکھتے ہوں یعنی وہ  داعی اسلام کا کردار ادا کر سکیں۔

تعارف:

 ” درحقیقت تم لوگوں کے لئے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے“( سورة احزاب آیت ۲۱

”تعلیم تہذیب کی ترسیل کا نام ہے“۔

 ول دورانت۔امریکی ماہر تعلیم، مورخ، مصنف اور فلسقی

مشن: ہر بچہ ایسی تعلیم اور ہنر سے بہرہ مند ہو جو اسے ابدی اور حقیقی خوشیوں سے ہمکنار کرے جس کا سلسلہ آخرت تک دراز ہو۔

ویژن: ایک ایسا نظام تعلیم جو ایک ایسی نسل تیار کرے جودین و دنیا کے علوم سے مزین اور اعلیٰ اخلاق وکردار و تقویٰ کی حامل ہو اور جو ایک ایسی بنیاد فراہم کرے جس سے قومی سطح پر زندگی کے ہر شعبہ حیات کے قائدین فراہم کئے جا سکیں۔

ہدف: باکردار، دقیقہ شنا س مفکرین اور قائدین کی فراہمی۔

 مقاصد تعلیم:

 حسنات کی فراہمی : قرآن کی اس دعاءکی عملی تفسیر” اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘

  سفیان ثوریؒ کہتے ہیں کہ دنیا میں حسنہ (بھلائی) سے مراد رزق حلال اور علم ہے اور آخرت میں حسنہ سے مراد جنت ہے “۔

 اطاعت الٰہی: ” میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ  میری  عبادت (بندگی، اطاعت) کریں“ (الذٰاریٰت آیت ۵۶

بہترین اخلاق: محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا” میں تو اسی لئے بھیجا گیا ہوں کہ مکارم اخلاق کا معاملہ تکمیل تک پہنچاوں“اور یہ کہ ”میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں“۔

زندگی کو سنوارنا: ”اے میرے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو جو انھیں تیری آیات سنائے،ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اور ان کی زندگیاں سنوارے“ (ابراہیم ؑ اور اسمٰعیلؑ کی دعاءسورة بقرہ: آیت ۱۲۹

حتمی کامیابی: سیرة تعلیمی نظام کا مقصد اللہ سے ملاقات کے دن ، آخرت میں کامیابی ہے۔

بنیا دی اصول: یکسانیت، دستیابیت، مقدوریت، اور ہمہ گیریت

یکسانیت: دین و دنیا کی تعلیم کی یکسانیت

 دستیابیت: ہر علاقہ میں اسکول کی دستیابی، نیٹ ورک، شاخ دار

مقدوریت: تعلیم ہرشخص کی معاشی استطاعت میں ہو

ہمہ گیریت: ہر مذہب، رنگ اور نسل کے طلباءکے لئے اسکول کے دروازے کھلے ہوں۔

مقاصد نصاب:

۱۔طلباءکے اندر بہترین تعلیمی صلاحیت پیدا کی جائے۔ یعنی طلباء ریاضی ، سائنس اور انگریزی میں مہارت حاصل کریں گے۔

۲۔طلباءعلم وحی یعنی القرآن اور سنت رسولﷺ یعنی  حدیث اور سیرت محمدﷺ ، سیرت انبیاء،سیرت صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ کی بہترین اخلاقی تعلیمات سے روشناس ہوں ۔

۳۔طلباءکی اس طرح کردار سازی کی جائے کہ وہ اپنے اخلاق سے پورے معاشرے اور ہائی اسکول، کالج اور یونیورسیٹیوں کے ماحول کو متاثر کریں ۔ ان کی موجودگی سے ماحول میں اجالا ہو۔

۴۔ان میں علم دین کا فہم اور ابلاغ کی ایسی صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ تدریجاً اسلام کے چلتے پھرتے نمونے اور مبلغ بن جائیں۔

۵۔ان میں قائدانہ اور تخلیقی صلاحیت پیدا کی جائے۔

۶۔سیرة اسکول ایسا جدید مدرسہ ہو جہاں سے قوم و ملک اور دنیا کی امامت (لیڈرشپ) کی بنیادی تعلیم اور تربیت فراہم کی جائے ۔

۷۔ تعصبات سے پاک طلباءو طالبات اکیڈمک صلاحیت ، بہترین اسلامی تعلیمات سے مزین اور اخلاق اور کردار کی برتری سے عمومی معاشرہ پر اپنی دھاک بٹھائیں اور اسلام کاچلتا پھرتانمونہ بن کر اسلام کے داعی ، اورانسانیت کے رہنمابنیں۔

نصاب

۱۔قرآن سیرة مشن اسکول کا مرکزہ ہے۔

۲۔ اس نصاب میں عربی زبان (قرآنی عربی گرامر، زبان و ادب) پر خاص توجہ اور اس میں مہارت پیدا کی جائے گی تاکہ طلباءاور طالبات پر علوم دین کے دروازے کھل جائیں۔

۳۔انگریزی زبان کی تعلیم پر خاص توجہ اور مہارت پیداکی جائے۔ انگریزی زبان دنیاوی علوم کے دروازے کھولتی ہے اور اہل وطن سے ابلاغ کو آسان اور موثربناتی ہے۔ایک مبلغ کے لئے مقامی زبان کا سیکھنا اور اس میں مہارت پیدا کرنا فرائض دینیہ میں شامل ہے۔

۴۔ریاضی (Math)پر خاص توجہ دی جائے گی کیونکہ یہ دماغی گرہوں کو کھولتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ جس طالب علم کی عربی، انگریزی اور ریاضی کی تعلیم کی بنیاد بہت مضبوط ہو وہ زندگی کے کسی شعبہ میں ناکام نہیں ہوتا۔

۵۔ سائنس کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ اللہ کی کتاب کائنات کو پڑھ کر رقت طاری ہو اورطالبعلم اللہ سے مزید قریب ہو جائے۔ یہ پوری کائنات المصور کی تخلیق و صناعی ہے۔ آسمانی صحائف کے (قرآن) کے ساتھ کائناتی صحائف(سائنس) کے مطالعے سے اپنے رب کو خوب اچھی طرح پہچان لیا جائے۔ مسلمانوں کے نزدیک علوم و فنون کی تمام قسمیں ’ ’علم اشیائ“ کی شاخیں ہیں جو آدمؑ کی تخلیق کے ساتھ ہی ودیعت کر دی گئی تھیں (وعلم آدم الاسماءکلھا۔البقرہ: ۳۱)،جو وقت کے ساتھ ساتھ نمو پذیر ہوتی رہیں اور اس کا پھیلاوُ اوراسرار قیامت تک جاری رہے گا۔

۵۔اس نصاب کی تیاری میں ہر قسم کے ”تعصب“ سے دور رہا گیا ہے۔ تعصب علم کا دشمن ہے۔علوم اشیاءجو ہر وقت وسعت پذیر ہے ان میں ابن آدم کے کسی قبیلے یا گروہ نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس سے ہر مسلم کو استفادہ کرنا چاہئے۔ ا سی طرح علوم دین اور معاشرت میں اگر یک مسلکی اور یک مدرسی رویہ اختیار کیا جائے تو مقاصد تعلیم کاحصول ناممکن ہو جائے گا۔نصاب کی تیاری میں شہد کی مکھی کی طرح گلستان علم و ہنرکے ہر خوشبودار پھول سے رس نچوڑناہے۔

۶۔ ہر بچہ مسجد میں داخل ہوتے ہی دو رکعت نماز نفل ادا کرے ۔

۷۔ اسکول اسمبلی میں بآواز بلند ہر فرد سورہ فاتحہ (صراط مستقیم کی دعائ)، سورة اخلاص( توحید خالص کا اقرار اور اعلان) اور درود شریف ( اللہ اور فرشتے بھی رسول ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اس طرح طلباءکے دل اللہ اور اسکے رسولﷺ کی محبت سے لبریز ہو جاتے ہیں)، اس کے بعد معروف قرآنی دعاء”ربّنا اٰتنا فی الدنیائ۔۔۔“ علم میں افزونی  اور حفاظت کی دعائیں۔”ہفتہ وار آیت“ (یعنی ۵ دنوں تک ایک آیت کی تکرار، ایسی آیت جو اخلاق و کردار سنوارنے والی ہو) ۔ ا س کے بعد ”ہفتہ وار حدیث“۔اس کے لئے چالیس ا حادیث کا انتخاب (ایک سال کے اسکول کی میعاد)۔

۸۔قرآن کی تعلیم کا آغاز قاعدہ، ناظرہ اور تجوید سے ہو گا اور کم از کم تین پارہ کے برابر قرآن کی خاص اور ضرور ی سورتوں کی حفظ کرائی جائے گی تاہم مکمل اچھی یاد داشت کے طلباءمکمل حفظ بھی کر سکیں گے ۔ ساتھ ہی ساتھ عربی زبان کی تعلیم بہترین دستیاب استاد کی نگرانی میں شروع کی جائے گی۔

۹۔ایک مضمون نئے عنوان (Wisdom of Islam) ”حکمت اسلامی“ کے تحت پڑھایا جائے گا۔اس کے عنوانات تو وہی ہیں جو قرآن و حدیث کے عنوانات ہےیعنی اعتقادات، عبادات، معاملات،اخلاقیات،معاشرت،معیشت،معاشرتی آداب، اجتماعی معاملات، امر و نہی اور جنت و دوزخ وغیرہ۔ البتہ اسے پڑھایا اس طرح جائے گا کہ نوجوان اور نوخیز ذہنوں میں اٹھنے والے ہر سوال کا کافی اور شافی جواب مل جائے اور یہ طلباءاس لائق ہوں کہ نہ صرف وہ خو د اسلام کو ایک مکمل ضابط حیات کی شکل میں اپنی زندگیوں میں نافذ کریں بلکہ اسلام اور اس کے اعتقادات اور معاملات کے بارے میں اٹھائے جانے والے ہر اعتراض اور پروپیگنڈا کا مقابلہ بھی کر سکےں اور جواب بھی دے سکیں۔اس مضمون کے تحت چھوٹے بچے طہارت، وضو،عبادات کے طریقے، اسلامی آداب، والدین، اساتذہ، بڑوںاورچھوٹوں کے ساتھ سلوک اور رویوں کی تعلیم وترببیت حاصل کریں ،جب کہ بڑے بچے اجتماعی معاملات، اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت، اسلامی معیشت، اسلامی سیاست، ریاست ،خلافت اور اسلام کے امن اور انصاف کے تصورات جیسے موضوعات پر تعلیم حاصل کریں ۔ اسکے لئے مختلف عمر اور گریڈکے بچوں کے لئے نصاب تیار ہے اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

۱۰۔یہ ایک ایساتعلیمی نظام ہے جس میں روحانی، اخلاقی، علمی، جسمانی صحت، تعلقات باہمی، ثقافتی(ایمان عمل کی شکل میں)اور معاشرتی (پبلک سروس) ، قیادتی اور تخلیقی خواندگی کا اہتمام ہے۔

۱۱۔ایک مربوط تربیتی نظام جس میں اسلامی آداب، اخلاقیات کی تربیت،تزکیہ نفس، حصول تقویٰ اور احسان کے طریقے ،حقوق العباد، غیر مسلمین، مشرکین ،اہل کتاب اور ہم وطنوں کے بارے میں معلومات، ان کے اندر دعوت اسلامی اور تبلیغ کی خواہش پیدا کرنا۔ ان تعلیمات کے لئے اسکول کے باہر کے علماءاور ماہرین اخلاق و تربیت کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

 ۱۲۔ ہر دو ماہ میں ایک دن مطالعاتی دورے اور اچھے موسم میں خوبصورت تفریحی مقام پر تمام طلباءاور اساتذہ جمع ہوں گے۔

 ۱۳۔سیرة مشن اسکول گریڈ۴ تک کے لئے کلاسیں طلباءاور طالبات کے لئے ایک ساتھ اور گریڈ۵ سے علیحد ہ ہوں گی۔

۱۴۔تعلیم کا عمل ایک عبادت ہے اور زرخیز زمین میں ہی اچھی فصل لہراتی ہے اس لئے اساتذہ اور طلباءکو کلاسز میں دوران تعلیم حالت وضو میں رہنے کے لئے کہا جائے گا۔ اس اسکول کا ہر پروگرام ظاہری اور باطنی طہارت،پاکیزگی اور تقویٰ کے ماحول میں منعقد ہو گا اور طلباءاور اساتذہ طہارت اور وضو کے اہتمام کے ساتھ پروگرام میں شامل ہوں گے۔تعلیم اور تعلم کا یہ عمل عبادت ہے چنانچہ طالب علم اور استاد دوران کلاس اپنے کوعملاََحالتِ عبادت میں تصور کریں ۔

۱۵۔والدین اساتذہ اسکول کونسل: ماہ میں ایک شام والدین اساتذہ اسکول کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں ایک ماہر تعلیم، اسکالر، عالم یا کسی فن کا ماہر والدین اور اساتذہ کی تربیت کے لئے شامل ہوگا۔والدین کی عملی شرکت اس تعلیمی نظام کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔

 تعاون کی اپیل:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل موقوف ہو جاتا ہے، مگر تین چیزوں کا ثواب جاری رہتا ہے، ایک صدقہ جاریہ کا، دوسرے علم کا جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، تیسرے نیک اولاد جو اس کے لئے دعاءکرے (مسلم ۱۶۳۱)

اگر آپ ذرا غور کریں تو یہ تینوں نیکیاں یکجا ہوکر سیرة مشن اسکول میں شامل ہیں۔ اگرآپ اپنے لئے اور اپنے زندہ یا مرحوم والدین کے لئے آج جو اس ثلاثہ نیکی کی زمین پر بیج بوئیں گے تو یہ جلد ہی انشاءاللہ تناور درخت کے باغات میں تبدیل ہوگا جس کا سایہ فرش تا عرش سکون و راحت ادا کرے گا۔

آپ ذرا دیر کے لئے سوچیں کہ اگر آپ کے تعاون سے آج یہاں سیرة مشن اسکول کا نیٹ ورک بن گیا۔ ہزاروں طلباءکی زندگیاں بدلیں گی، ان ہزاروں طلباءنے اپنے خاندان، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ہم وطنوں پر جو اثر ڈالنا ہے ان سب کی نیکیاں اور ان سب کا ثواب آپ کو بھی ملتا رہے گا۔ قیامت تک ایسے طلباءاور بدلی ہوئی زندگیوں کی تعداد ملین اور بلین میں ہو سکتی ہے۔ ان تمام کا اجر، ان تمام کی نیکیاں آپ کے اکاونٹ میں ضرب سے آئیں گی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حساب کتاب کا دن قیامت کے بعد رکھا ہے کیونکہ اس دنیا میں کی جانے والی نیکی اور برائی دونوں کے اثرات قیامت تک جاری رہیں گے۔

” حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے جانوں اور ان کے مالو ں کو جنت کے بدلے خرید لئے ہیں “ (سورة التوبہ آیت ۱۱۱ )۔ اللہ اپنے ہی دئے ہوئے جان اور مال کو واپس جنت کے بدلے خرید رہا ہے۔کیا خوب ہے تجارت اور کیا خوب ہے سودا۔

شمالی امریکا میں چرچ بک رہے ہیں اس لئے کہ ان کے بوڑھے رکھوالوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔نئی نسل میں چرچ جانے والے باقی نہ رہے۔ یہاںعیسائیوں کی تمام مذہبی تنطیمیں زیادہ عمر کے بوڑھوں پر مشتمل ہیں۔چند صدی قبل آنے والے مسلم عرب اور ترک بھی اپنا دین، مذہب، زبان، ثقافت سب کچھ پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں۔ ان کی پہلی نسل کی آباد کی ہوئی مسجدیں ویران ہو چکی ہیں ۔صر ف یادگار کے چند نمونے موجود ہیں۔یہاں کا تعلیمی نظام تین سے چار نسل میں تحلیل کرنے کا فل پروف انتظام رکھتا ہے۔ جب کہ اونٹاریو کا نیا تعلیمی نظام و نصاب آپ کی اپنی نسل کو آپ کی اپنی زندگی میں ہی برباد کرنے کا سامان رکھتا ہے۔

”دوڑ زمانہ قیامت کی چال چل گیا“

ویب   www.SeerahMssionsShool.com

( جاوید انور سیرة مشن اسکول کے بانی اور پرنسپل ، سیرة اسکول بلاگ کے پبلشر ایڈیٹر،سیرة اسکول تحریک کے بانی اور انٹاریو پیرنٹ ان ایکشن کے آرگنائزر ہیں۔ تعلیمی موضوع پر ان کے دیگراردو اور انگریزی مضامین seerahschool.com پردیکھیں۔)

ماہنامہ آفاق ستمبر ۲۰۱۳

Bookmark and Share
Print This Post Print This Post

You must be logged in to post a comment Login