TopSecurity

قرآن کا مقصد تعلیم اور ہمارا نطام تعلیم

جاوید انور

دنیا میں رائج الوقت نظام تعلیم انسان کو اسفل السافلین کی سطح تک گرا چکا ہے اور اس نظام تعلیم نے دنیا کو ہولناک تباہی اور آخری تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ مسلم دنیا، نام نہاد اسلامی ممالک اور مسلم معاشروں میں بھی وہی نظام تعلیم رائج ہے جس کا خالق شیطان مردود ہے جوکسی بھی حال میں انسان کو فلاح اور کامران نہیں دیکھنا چاہتا ہے۔مسلم دنیا اور مسلم معاشروں میں یہ بات مستحکم کر دی گئی ہے کی مغربی اور سیکولر نظام تعلیم کا کوئی متبادل نہیں ہے اور یہ بھی کہ مسلم اہل علم و دانش متبادل نظام دینے سے قاصر رہے ہیں۔مسلم اہل علم و دانش کی موجودہ علمی سطح خواہ کچھ بھی ہو ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ ہمیں ایک کتاب” القرآن“ کی موجودگی کے باعث تمام دنیا پرپہلے سے ہی علمی برتری حاصل ہے، شرط صرف اس کے پڑھنے اور اس پر غور کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک بڑے گروپ نے قرآن کو طاق نسیان پر رکھ دیا ہے اور اس کے بارے میں ایک عجیب منطق انھوں نے یہ نکالی ہے کہ یہ صرف علماءخاص کے پڑھنے کی چیز ہے اور عام آدمی اس سے استفادہ نہیں کر سکتا البتّہ صر ف ثواب دارین کے لئے بغیر سوچے سمجھے پڑھ سکتا ہے۔حالانکہ قرآن کا خود دعویٰ ہے اور وہ پکار پکا ر کر کہ رہا ہے کہ

وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ

 ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے ،پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟“ القمر    (54:  17,22,23,40

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا يَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ

“ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں”   البقرہ( 2:99)

نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَۙ  مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ نَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ

“ اس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ہے جو حق لے کر آئی ہے اور ان کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں اس سے پہلے وہ انسانوں کی ھدایت کے لئے تورات اور انجیل نازل کر چکا ہے اور اس نے وہ کسوٹی اتار دی ہے (جو حق و باطل کا فرق دکھانے والی ہے) اب جو لوگ اﷲ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کر دیں ، ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی ۔اﷲ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے” ( آل عمران (2:3-4

ہمیں اب صرف کرنا یہ ہے کہ ہمیں اپنا نظام تعلیم اور نصاب قرآن کے احکام اور اس کے تصور تعلیم کے مطابق بنا نا ہے اور اس طرح دنیا کا سفر ناکامی، تباہی ، بربادی اور جہنم کی آگ کے بجائے فلاح ونصرت، ترقی اور ابدی جنت کی طرف ہو جائے گا اوراس دنیا کے باسی ”سَوَآئَ السَّبِیل “ (توسط اور اعتدال کی شاہراہ) پر واپس آجائیں گے۔ کیونکہ

اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ

“حقیقت یہ کہ اﷲ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے  والےلوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں”    فاطر (35:28)

علم کے ماخذ کا علم

 قرآن کے مطابق علم کا ماخذ اﷲ سبحان تعلیٰ کی ذات ہے

وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ

“اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے”۔البقرہ     (2:92)

اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا

 یقیناً اﷲ ہر چیز کا علم رکھتا ہے    النساء   (4:32)

   اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ

“ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے”    المآئدہ              (5: 97)

لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ

زمین اور آسمانوںمیں جو کچھ ہے اسی کا ہے، کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے ؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی واقف ہے اور اس کے معلومات میں سے کوئی چیز ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے. البقرہ    (2:255)

وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ

وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی ۔النساء       (4:26)

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ

 اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ، جنھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے، درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو، زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو، زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو، خشک اور تر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے الانعام    (6:59)

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ

ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصّل بنایا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے  ۔ الاعراف    (7:52)

چنانچہ علم کے سرچشمہ کے مصنف کی کتاب ہی وہ کتاب ہے جو کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ

یہ اﷲ کی کتاب ہے ، اس میں کوئی شک نہیں۔  البقرہ      (2:2)

 اور یہ کہ وہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ

“رہا یہ ذکر، تو اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہباں ہیں”   الحجر    (15:9)

چونکہ ہمارے پاس ایک بنیادی کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے اور یہ محفوظ ترین کتاب ہے تو اس کتاب پر ایمان لانا اور نظام تعلیم میں اس کو اولیت اور مرکزیت دینا ہم پر فرض ہے۔علم کے بغیر ایمان حاصل نہیں ہوتا اور ایمان علم کے بغیر نامکمل ہے۔اس لئے قرآن نے علم حقیقی کے اس مآخذ پر ایمان لانے کو ہدایت کے لئے اولین شرائط میں شامل کیا ہے۔

وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ

” جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں” البقرہ       (2:4)

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ

” اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاوُ یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی”  البقرہ           (2:41)

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ   اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَيَّنُوْا فَاُولٰٓىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ

“جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اورہدایات کو چھپاتے ہیں (تبصرہ: آج کے زمانے میں مسلمانوں کا بہت بڑا گروہ اور بہت سی جماعتیں اور ان کے اکثر تعلیمی ادارے ایسا ہی کر رہے ہیں، – ج۔ا۔) درآں حالیکہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لئے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں، یقین جانو کہ اﷲ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں، البتّہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگیں ان کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑادر گزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں ”  البقرہ     (2:159-160)

 ان آیات میں”سب انسانوں کی رہنمائی کے لئے” کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے ، مدارس اور اسکول تمام انسانوں کے لئے اور ہر طالب علم کے لئے کھلے ہونے چاہئے اور ہمارے نظام تعلیم میں علوم قرآن و معنی وتفسیر کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ

“جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے” البقرہ     (2:121)

علم الحق کے معلّم اور شارع کا علم

اﷲ نے علم حقیقی پر مشتمل کتاب کو آسمان سے زمین پر یوں ہی نہیں ٹپکا دیا بلکہ اس کے لئے ہادی اور رسول بھیجے تاکہ اس کی اس کتاب کی تشریح و تعبیر کرے اور حکمت کی باتوں کو کھول کر بیان کر ے اور ایک نئے نظام تعلیم کا آغاز کرے اور ایک ایسی تحریک کی قیادت کرے جس سے دنیا کی انسانی ریاستوں اور انسانی معاشروں  میں وہی الٰہی نظا م قائم ہو جو پوری کائنات میں پہلے سے قائم ہے۔ اورانسانی آبادی زندگی کی بھول بھلیوں سے نکل کر سیدھی اور صاف شاہراہ حیات پر آجائے۔

اﷲ نے اپنے رسولوں کو کتاب کے ساتھ فرقان اور حکمت کی باتیں بھی سکھائیں۔

وَ اِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ

“یاد کرو کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فرقان عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعہ سے سیدھا راستہ پا سکو” البقرہ  (2:53)

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًاۙ

“ہم نے تم کو علم حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا” البقرہ    (2:119)

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؒ

“اور اے رب، ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اُٹھائیو، جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے، تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے“  البقرہ         (2:129)

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕ ۱فَاذْكُرُوْنِيْۤ۠ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ

 “ میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو اور کفران نعمت نہ کرو ”   البقرہ     (2:151-152)

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ

درحقیقت اہل ایمان پر تو اﷲ نے یہ بہت بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے”۔ آل عمران    (3:164)

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِۙ   اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ

“ال ر۔اے محمد ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاوُ ان کے رب کی توفیق سے، اس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے”  ابراہیم    (14:1-2)

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرً لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا

“اے نبی ہم نے تم کو شہادت دینے والا، بشارت دینے والا، اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے تاکہ اے لوگو، تم اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاوُ اور اس کا ساتھ دو، اس کی تعظیم و توقیر کرو، اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو”

الفتح    (48:8-9)

مَاۤ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ

 “وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے اس کا احترام ملحوظ رکھو۔اﷲ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اﷲ کو ہر بات کی خبر ہے”۔ البقرہ    (2:231)

 فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠

 “(جبریلؑ نے) اﷲ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب (رسولﷺ) پر نازل کیا ہے جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے” البقرہ  (2:97)

دنیا میں آخری پیغمبر زماں محمد رسول اﷲﷺ کی بعثت کے بعد اب انسانوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اس رسول عربیﷺ کی پیروی کرے۔

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ

 “اور یاد کرو ،  جب اﷲ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ “آج ہم نے کتاب اور حکمت اور دانش سے نوازا ہے، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی”  آل عمران ۔(3:81)

لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ  يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ

“ہر دور کے لئے ایک کتاب ہے ،اﷲ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اُم ّالکتاب اسی کے پاس ہے”۔ الرعد  (13:38-39)

 اب ان انسانوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے اور ان کے مابین فساد اور جنگ و جدل روکنے کا بھی ایک ہی طریقہ ہے کہ تمام انسان اس نظام تعلیم کو لے کر چلیں جو کہ المعلّم کا دیا ہوا نظام تعلیم ہے اور جو انسانوں کے درمیان وحدت قائم کرتا ہے۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ

“ابتدا میں تمام لوگ ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلاف رونما ہوئے) تب اﷲ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والی اور کجروی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلاف رونما ہو گئے تھے ان کا فیصلہ کر ے۔(اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔نہیں) اختلاف ان لوگوں نے کیا جنھیں حق کا علم دیا جا چکا تھا۔انھوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس لئے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے ۔ پس جو لوگ انبیاءپر ایمان لائے انھیں اﷲ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اﷲ جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے“البقرہ (2:213)۔

نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ

“ جو تعلیم انھیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصّہ بھول چکے ہیں اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے  ”   المائدہ  (5:13)

وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًاؕ

“اور اے محمد ! ہم نے آپ کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر اﷲ کی گواہی کافی ہے، جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے دراصل اﷲ کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گے تو بہر حال ہم نے آپ کو ان لوگوں پرپاسباں بنا کر تو نہیں بھیجاہے” النسا ء   (4:79-80)

 قرآنی نظام  میں تعلیم قرآن کے ساتھ ہی معلم اور شارع قرآن کے احکام اور طریقہ زندگی کا علم ہوناضروری ہے یعنی احادیث اور سیرت طیّبہﷺ

زبان اور بیان کا علم

العالم نے جس زبان میں خطاب کیا ہے اور جس زبان میں العلم موجود ہے اس زبان کا سیکھنا بھی قرآن کے مقاصد تعلیم میں شامل ہے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ

 “ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم اسے اچھی طرح سمجھ سکو”  یوسف      (12: 2)

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا

“اسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے” الرعد             (13:37)

قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ

“ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے ، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے”   الزمر   (39:28)

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَۙ

“ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں  ”   حم ٓالسَجدہ         (41:3)

حٰمٓۚۛوَ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِۙۛاِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ وَ اِنَّهٗ فِيْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌؕ

“حٰ ۔مٓ۔قسم ہے اس واضح کتاب کی کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو اور درحقیقت یہ امّ الکتاب میں ثبت ہے۔ ہمارے یہاں بڑی بلند مرتبہ حکمت سے لبریز کتاب” الزخرف    (43:1-4)

جس طرح ہادی برحق نے عربوں کو خطاب کے لئے انھیں کی زبان کو اختیار کیا اسی طرح اسی رسولﷺ کے نمائندہ کی حیثیت سے اب آپ کے پیغام کو تمام بنی نوع انسانی تک پہنچانے کے لئے ہمیں مقامی زبان و بیان میں مہارت، فصاحت اور بلاغت پیدا کرنی ہوگی۔مثال کے طور پر شمالی امریکا [امریکا اور کینیڈا] میں  عربی مبین (قرانی عربی) کے ساتھ ساتھ طلباءکو انگریزی مبین (بہترین انگریزی) میں مہارت پیدا کرنی ہو گی۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ

” ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب کبھی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انھیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے”   ابراہیم(14:4)

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا

“ہاں،اسی طرح اے نبی ، یہ قرآن ِعربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکّہ) اور اس کے گر دو پیش رہنے والوں کو خبردار کرو”     الشوریٰ        (42:7)

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ

“)اے نبی( ہم نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں”  الدخان    (44:58)

مقامی زبان میں بہترین بیان اور کلام کی استطاعت ہمارے نظام تعلیم کا ایک اہم جز ہونا چاہئے۔

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْۙ وَ يَسِّرْ لِيْۤ اَمْرِيْۙ  وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْۙ  يَفْقَهُوْا قَوْلِيْ۪

“موسیؑ نے عرض کیا کہ پروردگار ، میرا سینہ کھول دے، اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں”    طٰہٰ   (20:25-28)

برصغیر کے ایک قادر الکلام مقرر نواب بہادر یار جنگ نے کہا تھا کہ “اچھے مقرروں کے بغیر ایک قوم گونگی ہوتی ہے”

سائنس کا علم

 قرآنی نظام تعلیم میں علم وحی و رسالت کے بعد کائنات اور ان میں پائی جانے والی اشیاء یعنی سائنس کے علوم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اﷲ نے آدم ؑکی تخلیق کے ساتھ ہی سب سے پہلے انھیں اس دنیا کی تمام اشیا کے علوم سکھائے ۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىِٕكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِيْ۠ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ  قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ  قَالَ يٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىِٕهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ

”  اس  کے بعداﷲ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے پھر انھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا  “اگر تمہارا خیال صحیح ہے کہ کسی خلیفہ کی تقرری سے انتظام بگڑ جائے گا تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاوُ” انھوں نے عرض کیا کہ نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں” پھر اﷲ نے آدم ؑ سے کہا “تم انھیں ان چیزوں کے نام بتاوُ” جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتا دئے تو اﷲ تعلیٰ نے فرمایا ” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں” البقرہ     (2:31-33)

جب عباسی با دشاہوں نے یونانی فلاسفہ کے کثرت سے تراجم شروع کرائے اور یہ مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر عام ہوئے تو حقیقت خرافات میں کھونے لگی ا س موقعہ پر امام غزالی ؒ ؒ جیسے بزرگ سامنے آئے اور انھوں نے فلسفہ کو مشرف بہ اسلام کیااور اسلام کو عجمی خرافات سےپاک کیا۔آج  بدقسمتی سے سائنس کے علوم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جو اﷲ سے باغی، بیزار اور اس کے دشمن ہیں۔ اور اب سائنس کے شعبہ میں ایک ”امام غزالی “ کی ضرورت ہے۔  تاہم ترک نزاد  ہارون یحیٰ  بہت خوبی  سے اس ضرورت کو پورا کر رہے ہیں ۔ان کی  کتابیں سائنس کے طلباءکو خالق حقیقی سے جوڑدیتی ہیں۔ سائنس کے علوم کے ذریعہ براہ راست معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے۔سائنس بذات خودحقیقت ربّانی کے علم کا ہی ایک ذریعہ ہے ۔اﷲ نے اس کائنات میں دو قسم کے صحائف اور آیات اتارے ہیں جو دو قسم کے اوراق پر بکھرے ہیں ایک وہ اوراق ہیں جو سیاہ لکیروں سے لکھے گئے ہیں اور وحی کے ذریعہ اس کے رسولوں تک اور انسانوں تک منتقل ہوئے اور ایک وہ صحائف اورآیات ہیں جو کائنات کے اوراق پر لکھے ہوئے ہیں جسے آج کی اصطلاح میں سائنس کہتے ہیں۔ ان آسمانوں اور زمین کے جلدوں کے درمیان جو بے شمار اوراق مہر و ماہ ، کواکب و سیارات، شفق، قوس و قزح، ابر وباد ، کوہ و صحرا ، سمندر اور ریگستان، جن وانسان ، پرندے اور چوپائے اور اشیاءکی شکل میں پائے جاتے ہیں ان کے خطوط اور ان پر کھنچی گئی لکیروں سے بھی ایک دانشمند انسان معرفت الٰہی حاصل کر لیتا ہے۔اس کتاب کائنات (سائنس) کی طرف سب سے پہلے، سب سے بڑے سائنسداں آذر کے بیٹے (ابراہیمؑ) نے متوجہ کرایا جس نے ڈوبتے ہوئے تاروں اور غروب ہوتے ہوئے چاند اور سورج کو دیکھ کراعلان کر دیا کہ” لا احب الافلین“(میں ڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا) اور اسی سائنسی غور و فکر کے نتیجے میں اس نے” فاطر السّمٰوٰت و الارض”(آسمان و زمین کا بنانے والا) کا پتہ چلالیا تھا۔

وَ كَذٰلِكَ نُرِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ

“ابراہیم ؑ کو ہم اسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے”  الانعام        (6:75)

 اور اسی خیال کی تصدیق حرا میں بیٹھ کر غور و فکر کرنے والےﷺ نے بھی کی۔

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِۚۙ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ يَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ

“ زمین و آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں ( اولی الباب The people of intellect ) کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو اٹھتے ، بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں اﷲ کو یاد

کر تے  ہیں اور زمین اور آسمان کی ساخت میں غور و فکر کرتے ہیں  ” آل عمران       (3:190-191)

مندرجہ ذیل آیات(  اورآج تک کے انسانی تجربات اور مشاہدات) کو سامنے رکھ کر  سائنس اور اس کے مختلف شعبوں کی کتب درسیات  اس طرح تیار کی جائیں کہ طلباء کے اندر خشیت الہی پیدا ہو۔

وَ هُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠

“وہی   ہے جس نے یہ زمین پھیلا رکھی ہے، اس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں، اور دریا بہا دئے ہیں، اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور دن پر رات طاری کرتا ہے، ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں  ” الرعد    (13:3)

وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ

 “اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطّے پائے جاتے ہیں،جو ایک دوسرے سے متصل واقع ہیں،انگور کے باغ ہیں، کھیتیاں ہیں، کھجور کے درخت ہیں،جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے، سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنا دیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں”         ا لرعد    (13:4)

اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ

” اﷲ ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے، جو کچھ اس میں بنتا ہے، اس سے بھی واقف ہے اور جو کچھ اس میں کمی و بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ با خبر رہتا ہے”  الرعد     (13:8)

سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ

” پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا ان اشیا ء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں“  یٰس    (36:36)

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا١ؕ وَ مِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ

” اﷲ نے آسمانوں سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا، پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے اور ایسے ہی جھاگ ان دھاتوں پر بھی اٹھتے     ہیں جنھیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لئے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔ اس مثال سے اﷲ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے”    الرعد (13:17)

هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِيْهِ تُسِيْمُوْنَ  يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّيْتُوْنَ وَ النَّخِيْلَ وَ الْاَعْنَابَ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَۙ وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ  وَ هُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ

“ وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لئے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے، وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل تیار کرتا ہے ان لوگوں کے لئے جو غور وفکر کرتے ہیں۔اس نے تمہاری بھلائی کے لئے رات اور دن کو،سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے اور سب تارے بھی اسی حکم سے مسخّر ہیں، اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں، اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں ان میں بھی ضروری نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں۔وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے ترو تازہ گوشت لے کر کھاوُ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنھیں تم پہنا کرتے ہو۔تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گذار بنو” النحل (16:10-14)

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَؒ  وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَيْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآىِٕغًا لِّلشّٰرِبِيْنَ وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِيْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِيْ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا يَعْرِشُوْنَۙ ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠

اﷲ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکایک مردہ پڑی ہوئی زمین میں اس کی بدولت جان ڈال دی۔یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لئے۔اور تمہارے لئے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے،ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں یعنی خالص دودھ، جو پینے وا لے کے لئے نہایت خوشگوار ہے(اسی طرح) کھجور کے درختوں اور انگوروں کے بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی، یقیناً اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لئے۔اور دیکھو تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اورٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں اپنے چھتّے بنا اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفاء ہے لوگوں کے لئے۔یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں”  النحل (16:65-69)

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ۠ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ يَكْفُرُوْنَۙ

“اور اﷲ ہی ہے جس نے تمہارے لئے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے بیٹے اور پوتے عطا کئے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں، پھر کیا یہ لوگ (یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی) باطل کو مانتے ہیں اور اﷲ کے احسان کا انکار کرتے ہیں  ” النحل   (16:72)

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ

“اﷲ نے تم کو تمہاری ماوُں کے پیٹوں سے نکالا، اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اس نے تمہیں کان دئے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیئے، اس لئے کہ تم شکر گزار بنو ۔ النحل (16:78)

لَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ  وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُيُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُيُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ يَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِيْن وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِيْلَ تَقِيْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ

“ کیا ان لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں؟ اﷲ کے سوا کس نے ان کو تھام رکھا ہے؟ ان میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں، اﷲ نے تمہارے لئے گھروں کو جائے سکون بنایا، اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کئے، جنھیں تم سفر اور قیام دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو، اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کر دیں جو زندگی کی مدّت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گا ہیں بنائیں اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں، جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں، اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں”  النحل      (16:79-82)

وَ جَعَلْنَا الَّيْلَ وَ النَّهَارَ اٰيَتَيْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰيَةَ الَّيْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا

“دیکھو ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو، اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے”  بنی اسرائیل    (17:12)

وَ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا

“کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہں علم نہ ہو، یقیناً آنکھ، کان، اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے (یعنی  علم کے بجائے گمان کی پیروی سے منع کیا گیا ہے ” ( بنی اسرائیل    (17:36)

هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـًٔا مَّذْكُوْرًا

“ کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا   ” الدہر     (76:1)

رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِه

“تمہارا حقیقی رب تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے،تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو”  بنی اسرائیل   (17:66)

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًاؒ

“یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انھیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی ہے”      بنی اسر ائیل   (17: 70)

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ يُحْيِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌۙ   وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ

 “لوگو، اگر تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹّی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے،پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور اور بے شکل بھی(یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں) تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے) کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموں میں ٹھیرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے، تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے پھر جہاں ہم نے اس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی،یہ سب کچھ اسی وجہ سے ہے کہ اﷲ ہی حق ہے۔اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔اور یہ( اس بات کی دلیل ہے ) کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں اور اﷲ ضرور ان لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں جاچکے ہیں”     الحج  (22:5-7)

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ  خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْؕ

“پڑھو (اے نبی) اپنے رب نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا” العلق  (96:1-5)

 وَالتِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِۙ وَ طُوْرِ سِيْنِيْنَۙ وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِۙ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ

“قسم ہے انجیراور زیتون کی اور طور سینا اور اس شہر (مکّہ) کی ہم نے انسانوں کو بہترین ساخت پر پیدا کیا”   التین   (95:1-4)

كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ

“ ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمہارے لئے مسخّر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو”  الحج)  (22:36

هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَيْهِ النُّشُوْرُ

“وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو تابع کر رکھا ہے چلو اس کی چھاتی پر اور کھاوُ اﷲ کا رزق اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے” الملک(67:15)

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًاؒ

“ اور اﷲ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو”   نوح  (71:19-20)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ يُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ

“کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے وہ سب کچھ تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے اور اسی نے کشتی کو قاعدہ کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر گر نہیں سکتا۔واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے ”  الحج (22:65)

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍۚ  ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ۪ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَؕ ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَؕ ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ  وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِيْنَ  وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِي الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ  وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ   وَ اِنَّ لَكُمْ فِي الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِيْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ وَ عَلَيْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؒ

“ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی۔ پھر لوتھڑے کو بوٹی دیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں ، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا،پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کر کھڑا کیا۔پس بڑا ہی با برکت ہے اﷲ سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقیناً اٹھائے جاوُ گے۔اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے ۔اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا۔ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں۔پھر اس پانی کے ذریعہ سے ہم نے تمہارے لئے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کر دئے۔، تمہارے لئے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سینا سے نکلتا ہے، تیل بھی لئے ہوئے اگتا ہے اور کھانے ولوں کے لئے سالن بھی۔اور حقیقت یہ ہے تمہارے لئے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ،ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ہم تمہیں پلاتے ہیں۔اور تمہارے لئے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں۔ان کو تم کھاتے ہو اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کئے جاتے ہو”  المومنون (23:12-22)

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى رِجْلَيْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

 “اور اﷲ نے ہر جاندار کوایک طرح کے پانی سے پیدا کیا، کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے”  النور               (24:45)

وَ هُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا

“اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے۔ ایک لذیذو شیریں،دوسرا تلخ و شور۔ اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ایک رکا وٹ ہے جو انھیں گڈ مڈ ہونے سے روکتے ہیں”  الفرقان      (25:53)

۰۲۱وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْعٰلِمِيْنَ۰۰۲۲وَ مِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ

“اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لئے۔اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے ۔یقینًا اس میں بہت سی نشانیا ں ہیں ان لوگوں کے لئے جو  ﴿غور سے﴾سنتے ہیں ”  الروم   (30:22-23)

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةًؕ

“کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اﷲ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں   ” لقمٰن   (31:20)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِيْبُ سُوْدٌ وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ

 “کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اﷲ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔پہاڑوں میں بھی سفید،سرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور اس طرح انسانوں جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں”   فاطر (35;27-28)

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠

“اس نے زمین و آسمانوں کی ساری ساری چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے، سب کچھ اپنے پاس سے ۔اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرنے والے ہیں”  الجاثیہ    (45:13)

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًاؕ

“ہم نے اس آسمان اور زمین کو جو ان کے درمیان ہے فضول پیدا نہیں کر دیا ہے (کہ تم اس پر غور نہ کرو اور اس کا علم حاصل نہ کرو”    صٓ   (38:27)

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ  الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ

“مارے گئے قیاس اور گمان سے حکم لگانے والے جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں (یعنی تجربات ، تحقیق ،مشاہدات اور غور و فکر کے بغیر قیا س اور گمان پر چلنے والے لوگ برباد اور ناکا م ہیں)”  الزّریٰت(51:10-11)

مندرجہ بالا آیات قرآنی کتاب کائنات کے اوراق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور اس کتاب سے توحید و آخرت کی تصدیق کراتا ہے اور سائنس کے علوم کے حصول کو انتہائی اہم اور ضروری اور رب کائنات کو پہچاننے کا ایک اہم ذریعہ بتا تا ہے۔ یہ حقائق پر مشتمل علم سائنس کے مختلف شعبہ جات؛ علوم طبیعات، کیمیات، ارضیات، بحریات،فلکیات، حیاتیات،جینیات ،حیوانیات،اور ریاضیات وغیرہ پر مشتمل ہے۔

انتظامی امور،حکمتِ سلطنت ، سماجی علوم اور خلافت ارضی سے متعلق علوم

چونکہ انسان اور خصوصاً وہ لوگ جو انبیاءپر ایمان لائے اس زمین پر اﷲ کے نائب ہیں اور انھیں امور سلطنت اس طرح چلانا ہے کہ تمام انسان کے لئے اس دنیا اور آنے والی آخرت کی زندگیاں کامیاب ہوں اور جو اﷲ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے کریں۔چنانچہ کار سلطنت کو چلانے کے لئے تمام ضروری علوم کا سیکھنا بھی ضروری ہے۔

 وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَآءُ١ؕ

“داوُدؑ نے جالوت (ظالم) کو قتل کر دیا اور اﷲ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا اس کو علم دیا” البقرہ (2:251)

وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌۖ   يُّؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا١ؕ وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ

 “اوراﷲ بڑا فراخ دست اور دانا ہے جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ، ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں”  البقرہ 2:268- 269) )

 کاروبار سلطنت کو چلانے کے لئے سب سے اہم علم ،معاملہ فہمی اور باتوں کی تہ تک پہنچنے (یعنی سیاست )کا علم ہے۔

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ١ٞ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ

“ اس طرح ہم نے یوسف ؑ کے لئے اس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔اﷲ اپنا کام کرکے رہتا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں اور جب وہ اپنی پوری جوانی تک پہنچا تو ہم نے اسے قوّت فیصلہ اور علم عطا کیا اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزاءدیتے ہیں”    یوسف (12:21-22)

یوسفؑ کو جب حکومت مل گئی تو انھوں نے اپنے رب کا شکر ان الفاظ میں کیا۔

رَبِّ قَدْ اٰتَيْتَنِيْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِيْ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ

“اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا۔زمین و آسمان کے بنانے والے،تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میراخاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا”       یوسف(12:101)

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَيْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ

 “ہم نے اس کی سلطنت (داوُد ؑ کی) مضبوط کر دی تھی، اس کو حکمت ادا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی”     صٓ  (38:20)

وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ

“ہم نے داودؑ ،سلیمانؑ کو علم عطا کیا اور انھوں نے کہا کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی    ” النمل          (27:15)

وَ حُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّيْرِ فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ

“سلیمانؑ کے لئے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے”     النمل    (27:17)

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ “لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو”    الحجرات(49:13)

خلافت ارضی کے مالکان کے پاس بناوُ کی   اور اس دنیا کو سنوارنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔اس ضمن میں تمام سماجی اور اقتصادی علوم، پالیسی، پلاننگ، ریسرچ، مینیجمنٹ، فنانس اور دیگر ضروری علوم شامل ہیں۔

دفاعی تدابیر اور ٹکنالوجی کا علم

 دفاعی حکمت ، تدابیر اور ٹکنالوجی کا علم بھی قرآن کے مقاصد تعلیم میں شامل ہے۔

قَالُوْا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِنَّ يَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُمْ سَدًّا  قَالَ مَا مَكَّنِّيْ فِيْهِ رَبِّيْ خَيْرٌ فَاَعِيْنُوْنِيْ۠ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ رَدْمًاۙ  اٰتُوْنِيْ زُبَرَ الْحَدِيْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِيْۤ اُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًاؕ فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ يَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا

 “اے ذوالقرنین ، یا جوج و ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں،تو کیا ہم تمہیں کوئی ٹیکس اس کام کے لئے دیں کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے، اس نے کہا ”جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے، تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں،، مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو“ آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاوُ حتّی کہ جب (یہ آہنی دیوار) بلکل آگ کی طرح سرخ ہو گئی تو اس نے کہا کہ “لاوُ اب میں اس میں پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا ( یہ بند ایسا تھا کہ) یا جوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آسکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لئے اور بھی مشکل تھا ”       الکہف  (18:94-97)

 وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَ الطَّيْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِيْنَ  وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ

“داوُدؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (فضائیہ، فضائی برتری) کو مسخر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے، اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لئے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے، پھر کیا تم شکر گزار ہو؟” الانبیاء (21;79-80)

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَيْثُ اَصَابَۙ وَ الشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ

ہم نے اس کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا اور شیاطین کو مسخر کر دیا۔ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور ”   صٓ  (38:36-37)

وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ يٰجِبَالُ اَوِّبِيْ مَعَهٗ وَ الطَّيْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِيْدَۙ  اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ  وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ  يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَ تَمَاثِيْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ

“ہم نے داوُدؑ کواپنے یہاں بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے)پرندوں کو دیا، ہم نے لوہے کو اس کے لئے نرم کر دیا اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔(اے آل داوُد) نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اس کو میں دیکھ رہا ہوں۔ اور سلیمانؑ کے لئے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی را ہ تک ( فضائی سفر)۔ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا سرچشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے تابع کر دئے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے۔ان میں جو ہمارے حکم کی سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔وہ اس لئے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی امارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن، اور اپنی جگہ سے نہ ہلنے والے بھاری دیگیں۔اے آل داوُد ؑ عمل کرو شکر کے طریقے پر،میرے بندوں میں کم ہی شکر گذار ہیں  ” سبا34:10-13)       (

وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ

“اور (ہم نے) لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں   ”  الحدید   (57:25)

 دفاعی ٹکنالوجی اور دفاعی ساز و سامان کی پیداوار آج بھی دنیا کا سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔جو قومیں اس صنعت میں آگے ہیں وہی ترقی یافتہ اور طاقتور قومیں کہلاتی ہیں۔مسلم ریاستوں میں اس ٹکنالوجی کی تعلیم اور پیداوار کی ترویج سے ان کے سارے معاشی اور دفاعی دلدّر دور ہو سکتے ہیں اور وہ  دوسروں کی محتاجی اور غلامی سے نکل سکتے ہیں۔

علوم طب و صحت

مسلمانوں کے یہاں علم صحت اور فنون طب کو ماضی میں کافی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔اہل علم میں یہ مقولہ عام تھا کہ ”العلمُ عِلمَانِ،عِلمُ الابدانِ وعِلمُ الاَادیانِ“ (علم کی دو قسمیں ہیں، علم بدن اور علم دین)۔صحت مند جسم امانت الٰہی ہے، اس امانت کی حفاظت کرنا ، ہر انسان پر واجب ہے۔تاہم بیماری اور شفاءکا اختیار اﷲ ھوالشّافی کے ہاتھ میں ہی ہے۔

وَ اَيُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَۚۖ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ

اور یہی (ہوشمندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایوبؑ کو دی تھی، یاد کرو کہ جب اس اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے“ ہم نے اس کی دعاءقبول کرلی اور جو تکلیف اسے تھی اس کو دور کر دیا” الانبیاء  (21:83-84)

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ۪ۙ

“اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے” الشعراء    (26:80)

 اﷲ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ ”اﷲ نے کوئی مرض ایسا پیدا نہیں کیا جس کی دوا نہ ہو بعض لوگ اس کو جانتے ہیں اور اس سے ناواقف ہیں“ اسلامی لٹریچر میں طبّ قرانی اور طبّ نبوی پر بڑا مواد موجود ہے۔اور اب اس پر خاصا کام ہو رہا ہے۔

بیماری کا علاج اور اس کی شفاءکی کوسش میں مسلم اطباءنے ماضی میں بہت سی کوسشیں کی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قبولیت شیخ الرئیس حکیم ابو علی الحسین ابن عبداﷲ ابن سینا بخاری (  1037۔980) کو حاصل ہوئی۔وہ امام الطّب کے درجہ پر فائز ہیں ان کی کتاب ”القانو ن فی الطّب “ آج بھی مشرق اور مغرب میں سند کا درجہ رکھتی ہے ، انھیں دنیا Doctor of Doctorsکے نام سے جانتی ہے۔

تاریخ انسانی کا علم

انسانوں کی تاریخ ، انبیاءو رسل کی تاریخ، اور سلف صالحین اور اسلاف کے کارناموں کا علم بھی قرآن کے مقاصد تعلیم میں شامل ہے۔ مثلاً ایک طرف انبیاءو رسل اور ان کی کامیابی اور اولالعزمی کی تاریخ بیان کی جاتی ہے تو وہیں تباہ و برباد ہو جانے والی قوموں کا حوالہ بھی ملتا ہے۔اور ان کامیاب اور ناکام لوگوں کی تاریخ دانی پر لوگوں کی توجہ دلایا جاتا ہے تاریخ کی نہ صرف کتابی علم پر بلکہ مشاہداتی علم کے طرف بھی توجہ دلایا جاتاہے۔

اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ

“پھر کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان ان قوموں کا انجام انھیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گذر چکی ہیں      ”      یوسف (12: 109)

قرآن کے اس تعلیمی نظام کو کون برپا کرے گا؟  ظاہر ہے اس کی ذمہّ داری امّت مسلم پر ہی ہے۔

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ

“اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو، اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہو”  آل عمران  (3:110)

لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

“تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہئے جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے ”   آل عمران) (3:104

اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا

“حقیقت یہ ہے کہ اﷲ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی”  الرعد (13:11)

 اس نظام تعلیم کا بنیادی مقصدیہ ہے کہ انسا ن دنیا کے تمام شعبہ حیات کو اس طرح برتے کہ وہ اﷲ کے احکام کی اطاعت اور بندگی کر رہا ہو۔

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ

“میں نے جنّ اور انسانوںکو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں” الذّاریات (51:56)

 

 

Bookmark and Share
Print This Post Print This Post

You must be logged in to post a comment Login