TopSecurity

لبرل کینیڈا میں اقامت اور اقامتِ دین

جاوید انور

کینیڈا کی وفاقی سیاسی پارٹی لبرل پارٹی کے رہنما جسٹن ٹروڈو نے اس سال مئی میں واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ آئندہ فیڈرل انتخاب کے لئے پارٹی کی نامزدگی کے انتخاب میں شامل لوگ کس خیال اور کردار کے حامل ہونے چاہئے۔”جمہوریت “ اور” آزادی اظہار اور   افکار ‘‘ کے  چیمپین  اس رہنما نے کہا کہ نئے لوگوں میں ہم صرف ان لوگوں کو ہی انتخاب میں شامل ہونے کی اجازت دیں گے جو عورتوں کے اسقاط حمل کی آزادی اور ہم جنس شادی کے بارے میں کوئی الگ رائے نہ رکھتے ہوں۔ یعنی اسقاط حمل اور ہم جنس شادی (same sex marriage) کے خلاف رائے رکھنے والوں کو نامزدگی کے انتخاب میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔اور انھیں اس بات کا عہد وپیمان کرنا ہوگا کہ وہ ان ”طے شدہ“ معاملات کو نہیں اٹھائیں گے۔اس عہد و پیمان کے ساتھ کئی ”مسلمان“ اور ”اسلامی کارکن“ بھی اس ماہ ستمبر میں جماعتی نامزدگی کے انتخابات میں امیدوار بن کر میدان اترے ۔ایک لبرل دوست ان سب امیدواروں کی شکست ”بری خبر“ کی سرخی کے ساتھ سنائی تو اس کی سرخی کی تصیح کرتے ہوئے اسے بتانا پڑا کہ بری خبر ان کا ہارنا نہیں بلکہ انتہائی شرمناک شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے انتخاب میں حصہ لینا تھا۔

’’شرم تم کو مگر نہیں آتی“۔

اگر لبرل پارٹی کے فلسفہ (لبرلزم)، پالیسی اور اغراض و مقاصد کو دیکھا جائے تو جسٹن ٹروڈو کا یہ بیان لبرل پارٹی کے ”اصول“ کے عین مطابق ہے۔ اٹھارویں صدی کے برطانوی لبرل سیا سی مفکرین جان لاک اور سڈنی کے یہی خیالات تھے کہ انسان کو اپنی نفس کی خواہشات پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے۔ اسے کسی بھی الہامی علم اور ہدایت کا پابند نہیں ہونا چاہئے۔جو لوگ مذہب اور الہامی ہدایت پر عمل کرنا چاہتے تھے انھوں نے اپنا راستہ الگ رکھا لیکن لبرلزم اور سیکولرزم کی آندھی اس قدر تیز تھی کہ وہ لاغر اور منحرف ”مذہب عیسائیت“ کو بہا لے گئی۔ان تحریکات کی پشت پر عالمی صہیونیت تھی اور وہ مذہبی گروہ تھا جس کا عقیدہ یہ ہے کہ جب تمام غیر یہودی سیاسی، معاشی، سماجی، تعلیمی، اخلاقی اور روحانی لحاظ سے برباد ہو جائیں گے اس وقت ان کا عروج شروع ہوگا ۔ اس مقصد کے لئے ان کی ہزاروں تنطیمیں دنیا بھر میں کام کر رہی ہیں۔ عیسائی دنیا، مذہب، اور ان کے سماجی اوراخلاقی نظام کے مکمل انہدام کے بعد اب اسلام اور مسلم دنیا کی مکمل سماجی ، تہذیبی اور اخلاقی تباہی کے لئے کاروائی ہو رہی ہے۔اس میں اس وقت سب سے نمایاں تعلیمی، فوجی اور ابلاغی سطح کی کاروائی ہے۔امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اور کینیڈا میں کنررویٹیو اور لبرل ( بشمول نیو ڈیموکریٹ) ان کے دو بڑے بڑے سیاسی دانت ہیں۔ان کے سیاسی گھوڑوں کی پرورش وہ میگا کارپوریشن کرتی ہیں جوعالمی صہیونیت کی خدمت کرتی ہیں۔

 بیسویں صدی کے اوائل میں ترکی میں خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد عالمی صہیونیت نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ اب ان کے سامنے کوئی سیاسی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔لیکن اسی صدی میں مفکرین اور مجددین نے ان تمام سازشوں سے پردہ ہٹا دیا تھا۔برصغیر میں علامہ اقبال ؒ اور ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور مصر وعرب میں سیدقطب شہیدؒ اور حسن البناؒ نے جدید جاہلیت کی تمام شکلوں بشمول لبرلزم اور سیکولرزم کی نشاندہی کر دی تھی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جدید جاہلیت کے تمام سیاسی تصورات، سیکولرزم، نیشنلزم، جمہوریت (عوامی حاکمیت) لبرلزم کو رد کرتے ہوئے اسلام کے سیاسی تصورات، توحید، جہانی نظریہ اور حاکمیت الٰہ کا تصور پیش کیا تھا جو تمام انسانوں کو انصاف، عدل اور امن فراہم کر تاہے۔اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبہ (بشمول سیاست) میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ دین کے بنیادی مطالبات ہیں۔ غیر اسلامی ریاست یا غیر اسلامی معاشرہ میں رہنے والوں کے لئے اسلام کی سب سے بڑی ہدایت یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے عقیدہ اور فکر پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ عقیدہ کا معاملہ نازک معاملہ ہے۔ایک مسلم اپنے عقیدہ کو کسی بھی حال میں نہ چھوڑ سکتا ہے اور نہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی اور ردوبدل کر سکتا ہے، اور نہ حالات کی ناسازگاری کا بہانہ کر کے کچھ عرصہ کے لئے معطل کر سکتا ہے ۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ دعویٰ تو یہ کرے کہ وہ اللہ کو اپنا حاکم اور رب مانتا ہے اور عملاّ وہ ایک ایسی سیاسی جماعت کا رکن ہو جس جماعت نے اجتماعی طور پر اپنا رب اور حاکم انسان کے ا پنے نفس اور انسانی خواہشات کو بنایا ہوا ہو۔اسلام کی یہ ہدایت موجودہ دور کے تسلیم شدہ اصول کے عین مطابق ہے کہ ہر شخص کو اپنے عقیدہ پر قائم رہنے اور اس کی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔

ایک مسلم کے لئے خواہ وہ مسلم معاشرہ میں رہتا ہو یا غیر مسلم معاشرہ میں، اقلیت میں ہو یا اکثریت میں، بڑی اقلیت ہو یا بہت چھوٹی، تنہا ہو یا کثیر، سفر آسان ہو یا مشکل، منزل قریب ہو یا بہت دور ،اس کے لئے ”اقامت دین“ کی جدجہد اور اسی راہ میں یکسوئی کے ساتھ اپنا تن ، من دھن لگانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔ سورہ شوریٰ مکی سورہ ہے ( انتہائی اقلیتی اور سیاسی مغلوبیت کا زمانہ) ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے جتنے پیغمبر گزرے ہیں سبھی کو  ”اقامت دین“ کا حکم دیا گیا تھا اور یہی حکم محمد ﷺ کو دیا جا رہا ہے۔گزشتہ قوموں نے اس تعلیم اور طریقہ (دین کی اقامت) کو فراموش کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے تفرقہ اور فساد ہوا۔آیات۳۱  تا۴۱ ۔اس کے بعد آیت ۵۱ میں ارشاد ہوا کہ:

”( (چونکہ یہ حالت پیدا ہو چکی ہے) اس لئے اے محمدﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اس پر مضبوطی سے قائم ہو جاواور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، اور ان سے کہ دو کہ ”اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف قائم کروں، اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی، ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی حجت نہیں ہے۔ اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔“

انصاف کا قیام کبھی بھی ریاستی اقتدار کے بغیر ممکن نہیں رہا ہے۔ اس آیت میں اقامت دین کے واضح معنی سیاسی اقتدار کا قیام ہے۔ رب کا مفہوم حاکم اعلیٰ سے ہے۔یعنی ایک مسلمان کا مقصد ایک ربانی اور الٰہی حکومت کا قیام ہے، جس کے قانون کا ماخذ قرآن اور سنت ہے۔اس راستہ کا نہ کوئی شارٹ کٹ ہے، نہ بلواسطہ کوئی راستہ ہے، نہ یہ اقلیت اور اکثریت کے قبول اور عدم قبول پر منحصر ہے نہ یہ کسی ملک و زمانہ تک محدود ہے۔ یہ ایک صاف ، سچی ، اور واضح ربانی شاہراہ ہے اور ایمان لانے کے بعد ہر مسلم کو اسی شاہراہ پر چلنا ہے۔

 مسلم دنیا کے طویل دور غلامی اور نو آبادیاتی دور میں اسلام کا سیاسی تصور اوجھل ہو گیا یا کر دیا گیا۔تاہم مجددین اور مفکرین اسلام نے اس تصور کو پھر تازہ کر دیا۔ مسلمانوں کے اندر پیدا ہونے والے خانقاہی مزاج سے نکال کر ان کے اندر تحریکی مزاج پیدا کرنے کی جدوجہد کی۔ایک گروہ نے خواہ اس کی تعداد کتنی بھی ہو اس تصور کو اپنالیا اور اقا مت دین کے مقصد کے لئے جماعت سازی اور افراد کی تعلیم اور تربیت شروع کی۔ شروع میں یہ طے پایا تھا کہ سیاسی اقتدار کے لئے کہ جاہلیتِ جدید کی ”انتخابی جمہوریت“ (ہجومی خواہشات) کا راستہ اپنایا نہیں جائے گا۔لیکن جب پاکستان میں ”قرارداد مقاصد“ دستور کا حصہ بن گئی تو حکومتی ہاتھ بدلنے کے لئے ’انتخابی “ طریقہ اپنایا گیا۔ اس راستہ سے ابھی تک کامیابی نہیں ملی۔ بھارت کی تحریک اسلامی اپنے پرانے موقف پر قائم رہی اور انتخابی سیاست کے میدان میں نہیں آئی۔ چونکہ اس کالم کا موضوع ’انتخابی سیاست“ نہیں ہے اس لئے اس موضوع کو آئندہ کے لئے اٹھاتے ہیں۔لیکن ان تمام تحریکات اسلامی نے اقامت دین کے لئے اپنی جماعت اور اپنے پلیٹ فارم سے ہی ایسی کوششیں کی ہیں، ابھی تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آیا کہ بھارت میں کانگریس، بھارتیہ جنتا پارٹی، اور جنتا دل وغیرہ میں شامل ہو کر اور پاکستان میں پیپلز پارٹی، عوامی لیگ اور مسلم لیگ وغیرہ میں شامل ہو کر بھی ”اسلام“ اور ”اقامت دین “ کا راستہ نکلتا ہے۔ یہ ”اپج “ کینیڈا ، امریکہ اور یورپ کی خاص ہے ۔شمالی امریکا میں مسلمانوں کو سیا ست میں شامل ہونے کی واعظ اور تلقین چند رہنماوُں کی طرف سے گزشتہ پندرہ برسوں سے خوب زور و شور سے جاری ہے۔ان میں اسلامی جماعتوں کے بعض افراد بھی شامل ہیں۔ اس سیاسی شمولیت (Participation) سے ان کامطلب یہ ہے کہ مسلمان پہلے سے قائم بڑی سیکولر اور لبرل سیاسی پارٹیوں میں شامل ہو جائیں ۔اس سے وہ کیا مقاصد حاصل کریں گے؟ ان کا جواب ایک ہی ہوگا خواہ اس کے لئے وہ کسی قسم کی اصطلاح استعمال کریں اور وہ یہ ہے مسلمانوں کے” حقوق کی حفاظت “۔ اور یہ حقوق کیا ہیں؟ دنیا کی آسائشیں۔اور یہ” حقوق “ ان کے نزدیک اتنے اہم ہیں کہ نہ اس کے لئے کسی پارٹی کی پالیسی اور پروگرام دیکھنا ہے، نہ ان کے نظریات اور عقائد کو دیکھنا ہے، نہ ان کے طریقہ کار اور لیڈر کے کردار کو دیکھنا ہے۔ان سب حوالوں سے انھیں آنکھ بند کئے رکھنا ہے کیونکہ ان کے نزدیک ”سیاسی شرکت“ ہی مطلوب و مقصود مومن ہے۔ اس میں شامل ہو کر تمہارا دین و ایمان (جس کی کوئی وقعت ان کے نز دیک نظر نہیں آتی) اگر جاتا ہے تو جائے۔ یہاں مسلمانوں کے لئے اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ کسی بھی طرح دو چار مسلمان اسمبلیوں کی رکنیت لینے میں کامیاب ہو جائیں۔ کمال یہ ہے کہ ایک ہی شخص ایک ہی زبان سے ”اقامت دین“ کی بات کرتا ہے اور اسی زبان سے مسلمانوں سے لبرل اور سیکولر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنے کی”پرزور“ اپیل کرتا ہے۔اور اپنے اس عمل میں کہیں کوئی تضاد اور تناقض بھی محسوس نہیں کرتا۔

 ان لوگوں نے مسلم کمیونٹی کی ایک تعداد کو اس دام میں گھیر لیا ہے۔ لیکن افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے ملکوں میں زمانہ طالب علمی میں تحریکات اسلامی میں شامل ہو ئے تھے اور یہ طے کیا تھا کہ دین کی اقامت کے لئے ساری زندگی جدوجہد کریں گے اور ان کی عبادت اور قربانی رب کائنات کے لئے خالص ہوگی۔ وہ اسی ”اسلام“ کے نام پر ان لبرل اور سیکولر جماعتوں میں شامل ہو رہے  ہیں جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں پورے سماج کو جنسی انحراف کی طرف لگایا، ہم جنس شادی کا قانون بنوایا، ہم جنس پرستی کے لئے بچوں کی کے جی کے سطح سے ذہن سازی کے لئے نظام تعلیم اوراس کے لئے نصاب بنایا۔ پبلک واش روم سے جنس کے تعین کو ختم کرکے کسی بھی جنس سے تعلق رکھنے والے کو کسی بھی جنس کے واش روم کواستعمال کی اجازت کا قانون بنوایا۔او رکینیڈا میں اس کے وفاقی لیڈر نے اسی گٹر ثقافت اور اس کے لئے کی جانے والی قانوں سازی کی دل وجان و زبان سے قبولیت کو انتخاب میں حصہ لینے کی شرط اول قرار دیا۔اور ہمارے بعض” اسلامی کارکنان “ نے بھی اسے قبول کیا۔ اس  قبولیت میں انہیں بعض اسلامی دانشوروں اور ”مستند“ علماءکی ”نظریاتی“ پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ان سب لوگوں کے دلائل وہی ہیں جو ہمیشہ سے مصلحت پرست، آسائش پسند، مفاد پرست اور عہدہ اور نوکری کے جانے سے خوفزدہ اور بزدل لوگوں کے دلائل رہے ہیں ۔” ابھی اسلام کے قیام اور اس کے اقامت کی بات کرنے کا وقت نہیں ہے“۔ ”ابھی ہم بہت مشکل وقت سے گزر رہے ہیں“۔ ابھی ہمیں امریکا اور کینیڈا میں قدم جمانا ہے۔’’ابھی ان کی دنیا توبننے دو “۔ ابھی اسے اپنا مکان بنانے کے لئے سود پر قرض لینے کی بھی اجازت دے دو “ بلکہ اب تو ”اقلیتی فقہ “ کے جدید فقہاءنے سود پر قرض لے کر مسجد بنانے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ وہ اللہ کے نام پر، اللہ کے گھر کے لئے، اللہ سے جنگ کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ اس طبقہ کا اسلام کے معاملہ میں ہمیشہ سے یہی رویہ رہا ہے کہ:

کل ملا وقت تو زلفیں تیری سنواروں گا

آج الجھا ہوں ذرا وقت کو سلجھانے میں

 اگر غور سے دیکھا جائے تو قدرت نے کینیڈا اور امریکا میں خصوصاً اور پوری دنیا میں عموماً اسلام کے لئے انتہائی سازگار ماحول بنا دیا ہے۔ لیکن یہاں کے بعض علمبرداران اسلام نے اسلام کی صحیح رہنمائی کے بجائے اسلام کے چہرہ کو ہی مضحکہ خیز حد تک بگاڑ دیا ہے۔ دین اسلام کی اقامت کی راہ پر چلنے والوں کے لئے حالات کبھی سازگار نہ تھے، انھوں نے ہمیشہ اپنی جدوجہد سے ہی اسے سازگار بنایا ہے۔

مسلم کمیونٹی کے بعض سیاسی کارکنان اپنے دماغ سے بہت کم اور دوسروں کے دماغ سے زیادہ سوچتے اور تقریروں سے متاثر ہو تے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل چیز یہ ہے کہ ہمیں ہر حال میں سیاسی دوڑ لگانا ہے اور حرکت میں آنا ہے خواہ یہ دوڑ کسی بھی سمت کی ہو۔حالانکہ صحیح تحریکی فکر یہ ہے کہ غلط راستے پر چل کر اپنی منزل سے دور ہونے کے مقابلے میں منزل کی طرف رخ کر کے اپنی جگہ پر کھڑے رہنا بہتر ہے۔کیونکہ پہلی صورت میں منزل سے دوری بہت بڑھ جائے گی۔ اگر کسی کو جانا ہومسسی ساگا اور وہ اپنے کار کا رخ پکرنگ کی طرف کر لے تو کیا اسے صحیح العقل تسلیم کیا جائے گا؟ کیا وہ اپنی منزل پر کبھی پہنچ سکے گا؟

مسلمانوں کا مستقبل اس ملک میں اسلام کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور اس کے لئے کوئی ہیر پھیر کا راستہ نہیں ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے اللہ کو اپنا رب بنا لیا اور پھر اسی کے ہو گئے اور جن لوگوں کا ایمان یہ ہے کہ ہماری دنیاوی اور اخروی کامیابی ہماری دین اسلام سے وابستگی اور دین اسلام کے قیام کی کوششوں سے ہی وابستہ ہے کھڑے ہوں اور دعوت اسلامی اور دین اسلام کے قیام کی بھرپور جدوجہد میں لگ جائیں اور اس راہ میں استقامت دیکھائیں۔

 ”بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس میں استقامت دکھائی ان کے لئے نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔یہ جنت والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔یہ ان کے اس اعمال کی جزا ہو گی جو وہ انجام دے رہے تھے۔“

 (الاحقاف 13-14)

 Jawed@seerahwest.com

 اشاعت : ماہنامہ آفاق، اکتوبر    ۲۰۱۴

Bookmark and Share
Print This Post Print This Post

You must be logged in to post a comment Login