TopSecurity

معاملہ تعلیم کا، نئی نسل کو بچانے کا، امربالمعروف اور نہی عنی المنکر ۔۲

مُّلا ابن المغرب کی ڈائری

سیاست، جمہوریت اور لبرلزم کے حوالے سے مسٹر شدید الفکرکے سب سے بڑے نقاد عمر مجددی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب اسلام خود ایک مکمل نظام حیات ہے تو اس میں جمہوریت،ملوکیت، ڈکٹیٹر شپ،لبرلزم ، کیپٹلزم یا سوشلزم کو شامل کرنے کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ سے تو آزادی کی گنجائش رہتی ہے اور انقلابات سے تبدیلی بھی آتی ہے لیکن جمہوریت کے نظام میں ایک منظم اقلیت ڈھول باجے کے ساتھ اور خوب سریلی بانسری بجا کر بھیڑ کو اپنے گرد جمع کرتی ہے اور اکثریت پر ہمیشہ کے لئے اس طرح غالب آجاتی ہے کہ اس سے نکلنے کی کوئی صورت بھی باقی نہیں رہتی۔

عمر مجددی کہتے ہیں کہ مغربی جمہوری نظام ِسیاست انسانی نفس کے پجاریوں کی ایجاد ہے۔جس میں قانون سازی کا اصل مقصد ایک خاص گروہ انسان کی نفسانی خواہشات کی آزادانہ تکمیل ہے۔ مجددی کہتے کہ بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر انتخاب کا عمل ایک شیطانی عمل ہے اور قرآنی احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قرآن جمہوریت کی رائے کو نہیں اہل الرائے کی رائے کو وزن دیتا ہے۔ جمہوریت کے بارے میں قرآن خود کہتا ہے کہ ”اکثرھم لا یو منون (البقرہ ۱۰۰)، اکثر الناس لا یشکرون، (البقرہ ۲۴۳)اکثرکم فاسقون“(المائدہ ۵۹)،  اکثرھم لایعقلون (المائدہ ۳۰۱)، اکژھم لا یعلمون (الانعام۳۷)، اکثرھم یجھلون، (الانعام ۱۱۱) ، و اکثرھم للحق ّ کارھون (المومنون ۷۰)“

‘‘حق اکثریت کو ناگوار ہے “ اللہ تعالی قرآن میں جگہ جگہ یہ فرماتے ہیں کہ ‘‘اور ہم نے اکثر لوگوں میں عہد کا نباہ نہیں پایا’’ اور ان میں سے اکثریت کو نافرمان پایا’’ ۔‘‘اکثریت خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر (اس کے ساتھ) شرک کرتے ہیں’’  ۔‘‘ان میں سے اکثریت ایمان نہیں لاتی“۔ ”اور وہ اکثر جھوٹے ہیں“۔‘‘ اکثریت جاہلوں کی ہے’’ ، اکثریت فاسقوں کی ہے وغیرہ وغیرہ۔ قرآن میں مزید آیا ہے کہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ ہی کثیر پر غالب آیاہے۔ مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست جس وقت تشکیل پائی اس وقت بھی ایک اقلیتی حکومت تھی۔ایک بااثر اقلیت نے اسلام قبول کیا اور اللہ کے رسول ﷺ کی قیادت میں حکومت بنائی۔

عمر مجددی ایک دن علامہ دانش کی مجلس میں سی بی سی کی ایک خبر لے کر آئے کہ کینیڈین والدین کی ایک تنطیم ”ایسوسی ایشن آف کینیڈین پیرنٹس“(Parents)نے  حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ کینیڈا میں بلوغت کی سرکاری عمر 18 سے بڑھا کر25 کر دی جائے۔ ایسوسی ایشن کی صدر میری لینڈر نے کہاکہ کینیڈا میں18سال میں بچے بالغ نہیں ہوتے اور والدین کی نگہداشت کے محتاج رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کینیڈا کا 18 سالہ نادان بچہ حکومت اور سیاست کے معاملات کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتا اور اسے ووٹ کا حق دینا سسٹم کے ساتھ ظلم ہے۔ عمر مجددی کے نزدیک اسلامی نظام حکومت کا قیام اہل الرائے (یعنی تقوے کے لحاظ سے تم میں سے بہتر) کی مشاورت سے تشکیل پائے گا نہ کہ بالغ رائے دہندگی سے۔ کینیڈا کے سیاسی نظام میں شمولیت کا پہلا مرحلہ کینیڈین شہریوں کو اسلامی نظام حیات کے تعارف کے ساتھ اسلام کی دعوت ہونی چاہئے۔ قبول کرنے والوں کی ایک جماعت تشکیل دی جائے جو اقامت دین کے لئے پرامن اجتماعی جدو جہد کرے۔

مجددی کے نزدیک مسلمانوں کو لبرلزم اور جمہوریت وغیرہ کی طرف لے کر جانا اور اس کے لئے سیکولر، لبرل جماعتوں کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنا ”دین اسلام“ کی راہ کو کھوٹی کرنا ہے۔اور”اسلام کے مکمل نظام حیات“ کے تصور پر شک کا پردہ ڈال دینا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ مقاصد اسلامی کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ جو لوگ مسلمانوں کے وقتی قومی مفاد کے لئے ایسا کئے جا رہے ہیں، انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمانوں اور تمام انسانوں کا مفاد اسلام کے دین حق کے ساتھ ہی وابستہ ہے اور اس سے باہر اس کا کوئی مفاد نہیں’’۔

مسٹر شدید الفکر کہتے ہیں کہ نیشنلزم، سیکولرزم اور ڈیموکریسی جو مغربی نظام سیاست کی بنیاد ہے ہمیں اس میں شامل ہو کر اپنی راہ نکالنی ہے۔ مسلمانوں کے حقوق کی تحفظ کرنے ہیں، انھیں سیاسی شمولیت پر اکسا کر اپنے چند بندوں کو اسمبلیوں میں پہنچاناہے، ورنہ مسلمان ہائے ہائے جبکہ غیر مسلم سارے مزے لوٹتے رہیں گے۔ مسٹر شدید الفکر بارہا یہودیوں کی ترقی کا راز بھی یہی بتاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ہمیں گوروں سے بھی بہت کچھ بلکہ سب کچھ انھیں سے سیکھنا ہے۔ مسٹر شدید الفکر مسلمانوں کی پسماندگی کا خوب رونا روتے ہیں۔ میں نے ان کی آنکھوں میں آنسو کا کوئی قطرہ تو کبھی نہیں دیکھا تاہم مسٹر شدیدالفکر آنسو کا ایک قطرہ گرائے بغیر بھی رونے کا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔عمر مجددی نے شدید الفکرکا نام ’منحرف الفکر“ رکھ دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں جو چیز مسلمانوں کے لئے” زہر ہلاہل ہے اس کو منحرف الفکر” قند “کہتے ہیں۔جس نیشنلزم نے انسانوں کا کاٹ دیا ہے، جس نے انسانوں کے اند امتیاز قائم کیا اور قبیلوں ، رنگوں اور علاقوں میں انسان کو مقید کر دیا ہے، جس نے بیسویں صدی میں دنیا میں عظیم جنگیں برپا کیں اور کروڑوں انسان تباہ ہوگئے۔جس کے باعث بیس فیصدلوگ اسی فیصد کے وسائل پر قابض ہو چکے ہیں۔انسان کا ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنا جس پر ازل سے کسی نے پابندی نہیں لگائی تھی اس پر بھی نیشنلسٹوں نے پابندی لگا دی ہے۔ جو لوگ اپنے اپنے ملکوں میں امریکی لوٹ مارکے باعث مفلس ہو کر امریکا پہنچتے ہیں ان کے ساتھ امریکا کیا کرتا ہے؟ ان کے پی ایچ ڈی ہولڈرز امریکی سڑکوں پر جھاڑو دیتے ہیں۔ڈاکٹرز ٹیکسی چلاتے ہیں، انجینئرز اینٹیں اٹھا نے اور سامان ڈھونے کی مزدوری کرتے ہیں۔ ایسے لاکھوں افراد جو نوجوانی میں ہجرت کرکے کسی طرح امریکا پہنچ جاتے ہیں ان میں سے کچھ کو بڑھاپے میں گرین کارڈ مل پاتا ہے۔ شہریت اور پاسپورٹ تو ان کی قبروں کے پتوں پر ہی بھیجا جاتا ہے۔

 انسانوں نے ر سولوں کے ذریعہ سے آئے ہوئے اللہ کے اجتماعی احکامات کو ماننے سے انکار کر کے جب سیکولرزم کا راستہ اختیار کیا ہے، انسانوں کی اکثریت کی دونوں زندگیاں بربادہو گئی ہیں۔ آج انسان انسان کو جس طرح چیڑ پھاڑ رہا ہے اور درندگی میں جانوروں پر اس کوکس قدر سبقت حاصل ہے اسی کو قرآن میں اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے انسان کو تمام مخلوقات میں بہترین یعنی اشرف المخلوقات بنایا لیکن نافرمانیاں کر کے وہ سب مخلوقات میں سب سے بدتر بن گیا، وہ تو اسفل السافلین ہو گیا۔

اور جمہوریت کی جب بھی بات آتی ہے عمر مجددی اس طرح تاوُ میں آجاتے ہیں جیسے ابھی کلہاڑہ لے کر جمہوریت کے بت کو پاش پاش کر دیں گے۔ اگر کوئی پوچھے کہ اس بت کو کس نے گرا دیا تو کہہ دیں گے کہ پوچھ لو، جمہوریت سے، اپنی اکثریتی دیوی سے، کرا لو الیکشن بالغ رائے دہندگی سے، ہم سے کیا پوچھتے ہوں اور ہم تمہیں کیا بتلائیں، ہماری انفرادی رائے کی اہمیت ہی کیا ہے۔ایک دن کہنے لگے کہ” اس ناعقل بچہ جمہورے کو یہی نہیں پتہ کہ جمہوریت (democracy) دراصل ایک ہجومیت (mobocracy) ہے، جس میں سماج کا قلیل طاقتور طبقہ تنظیمی، مالی اور ابلاغی طاقت سے اکثریت کو ہمیشہ کے لئے غلام بنا لیتا ہے۔’’

 عمر مجددی کی کئی پیچیدہ باتیں بہت کم لوگوں کو بلکہ صرف ایک یعنی انھیں کے ہم رکاب علامہ دانش کے علاوہ کسی کے پلےّ نہیں پڑتیں ۔

 ایک دن جب وہ اپنے بلّے سے جمہوریت کے گیند کو ہٹ کر رہے تھے تو مسٹر شدید الفکر اور میں نے مل کر اس بال کو کیچ کیا اور ان کے آوٹ ہونے کی اپیل میں خلفائے راشدین کی جمہوریت پرستی کی مثال دی۔ ہم دونوں نے مل کر زوردار انداز میں بلکہ چیخ کر اپیل کی اور کہا کہ:

” جب خلفائے راشدین بیعت کے نتیجے میں منتخب ہوئے تھے تو اسی بیعت کو آج کی اصطلاح میں ووٹ کہتے ہیں اور اکثریت کی رائے کو بالغ رائے دہندگی اور جمہوریت کہتے ہیں۔ آئی سمجھ میں بات؟“

عمر مجددی نے ہم سے بھی زور انداز میں اپیل کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ” ان خلفاءپر لوگوں نے بیعت ان کے خلیفہ بننے کے بعدکی تھی نہ کہ ان کے بیعت کے نتیجے میں وہ منتخب ہوئے تھے۔ بلکہ ان کا انتخاب تو سوسائٹی کے چند صالح ترین لوگوں اور اعلیٰ ترین دماغوں اور اہل الرائے نے کیا تھا۔ اور اس کے بعد لوگوں نے آکر بیعت کر لی“ ۔ان کے اس جواب پر میں اور مسٹر شدید الفکر ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔عمر مجددی کی طرف اپنا چہرہ کرنے کی ہمت نہ پڑی تو ہم دونوں نے آپس میں ہی زبان نکال کر ایک دوسرے کو چڑھا کر ذرا دیر کہ لئے کھسیا لیا اور پھر اپنی زبان واپس منہ کے اندر ٹھونس لی۔یقین جانئے کہ جمہوریت کے حق میں اتنے مضبوط دلائل کو ہوا ہوتے ہوئے دیکھا تو زندگی میں پہلی بار” کھسیانی بلّی کھمبا نوچے “ جیسے محاورہ کا مفہوم سمجھ میں آگیا۔اس وقت وہاں کوئی کھمبا نہ تھا، اگر ہوتا تو ہم واقعی اسے نوچتے۔کیونکہ اس وقت نوچنے کے علاوہ کچھ دل نہ چاہ رہا تھا۔

اس ملّا کو تو بحث میں ہر کوئی جب چاہے اٹھا کر پٹخ دیتا ہے لیکن مسٹر شدیدالفکر اس میدان کے پہلوان ہیں۔ ہر حال اور ہر کیفیت میں ان کی استقامت دیکھ کر ہمیں رشک آتا ہے۔ وہ عمر مجددی سے بحث جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے تو کیا یہ یہودی اور عیسائی جس راستہ پر چل کر وہ کامیاب ہو رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں،کیا وجہ ہے کہ ان راستوں پر چل کر ہم کامیابی اور ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد عمر مجددی نے جو عالمانہ اور فاضلانہ گفتگو کی اور جس طرح ”کامیابی’’ اور ”ترقی’’ کے اسلامی اور کافرانہ مفہوم کی وضاحت کی اور مسلم اور کافر دونوں قوموں کے مقاصد زندگی کا فرق، طریقہ کار کافرق، اور دونوں کے انجام کا فرق بتایا ہے۔ یقین جانئے کہ بہت سی باتیں ملّا کی کھوپڑی میں ابھی تک سما نہ سکیں۔صرف ایک بات ان کی یاد رہ گئی ہے وہ علامہ اقبال کا ایک مصرعہ ہے کہ ”خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی“ یعنی مسلمانوں کی کیمسٹری کافروں سے جدا ہے۔ یہ بات اس طرح یاد رہ گئی کہ یہ پہلے سے ہی یاد تھی اور درس اقبالیات کی ایک مجلس میں اس کی تشریح کی گئی تھی اور یہ ہماری سمجھ دانی میں پہلے سے موجود تھی۔ ہاں ایک بات اور یاد آئی عمر مجددی نے نیشنلزم، سیکولرزم اور جمہوریت کے باالمقابل اسلام کے سیاسی نظام کی تین بنیادیں بتائیں تھیں : توحید (ایک خدا، ایک کائنات، اور ایک انسان کا تصور) ، رسالت (قانون و شریعت کا ماخذ)، اور خلافت (اللہ کی مرضی اور قانون کے مطابق شورائی حکمرانی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نیابت)۔

عمر مجددی اورمسٹر شدید الفکر کے درمیان ہونے والے دلچسپ سیاسی مکالمات کو فی الوقت کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔میں جس کردار کا اس ڈائری کے شروع میں تعارف کرانا چاہ رہا تھا اور مسلسل بھولے چلاجا رہا ہوں وہ ہیں: چوہدری نذیرالآفات ۔ان کا غم ان کا یہ خدشہ ہے کہ کینیڈا کے لوگوں کا حشر وہی نہ ہو جائے جو قوم لوطؑ کا ہوا۔جہاں ذرا سی بارش تیز ہوئی ، ژالہ ا وربرف باری زیادہ ہوئی ، طوفان کی خبر آئی وہیں غم سے نڈھال ہوئے، مسجد جا کر دعائیں کرتے اور پھر وہاں سے آکر ایک ایک ساتھی، ایک ایک جاننے والے کو فون کرتے اور سب سے ایک ہی سوال کرتے کہ ” بھائی اب کیا ہوگا؟“ ٹورانٹو اور اس کے نواح میں دسمبر میں جو زبردست برفانی بارش ہوئی اور لاکھوںدرخت ٹوٹ کر سڑکوں پر گر ے، لاکھوں گھروں میں بجلی نہ رہی اور ہیٹنگ سسٹم جاتا رہا تو وہ بہت پریشان ہوئے۔‘‘اب کیا ہوگا’’ کا سوال بار باردہراتے رہے۔میں ان کو تسلی دیتا رہا ۔مغربی نظام کی زبردست پناہ گیری کی قوت کے حوالے سے لکچر پلاتا رہا۔لیکن انھیں تسلی ہی نہیں ہوتی۔ ایک دن تو وہ فون پر باضابطہ قرآنی آیات مع ترجمہ کے سنانے لگے ”ابراہیمؑ نے کہا ”اے فرستدگان الٰہی (فرشتے جو مہمان بن کر آئے تھے) کیا مہم آپ کو درپیش ہے۔“ ؟ انھوں نے کہا کہ ” ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں جو آپ کے رب کے ہا ں حد سے گزر جانے والوں کے لئے نشان زدہ ہیں۔ پھر ہم نے ان سب لوگوں کو نکال لیا جو اس بستی میں مومن تھے اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی ان لوگوں کے لئے چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔الذٰریٰت 31-37))۔

میں نے ان سے کہا کہ” اگر آپ کو واقعی یقین آگیا ہے تو آپکینیڈا چھوڑ کر اپنے پنڈ کی طرف واپس نکل جائیے“۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا۔چودھری نذیر الآفات کینیڈا میں ساڑھے31 برس اور دو ماہ سے مقیم ہیں اور زبردست جسمانی اور ذہنی قوت کے مالک ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کینیڈین قوم کو قوم لوطؑ کی طرح مجرم بلکہ اس سے بھی سوا پاتے ہیں۔ اور اس جرم کی پاداش میں اس قوم کو ویسے ہی عذاب کے مستحق پاتے ہیں۔علامہ دانش نے اکثر ان سے کہا کہ آپ امر بالمعروف اور نہی عنی المنکر (بھلائیوں کا حکم اور برائیوں سے روکنا) کا قرآنی حکم اور فریضہ انجام دیتے رہیں آپ کو اللہ بچا لے گا اور بعید نہیں کی آپکی کوششوں سے پوری قوم بھی عذاب سے بچ جائے۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انھوں نے یہ کام نہیں کیالیکن اس کام کے لئے یہاں کسی اجتماعیت کی غیر موجودگی کے باعث اپنے آپ کو اکثر بے بس پاتے ہیں۔

انفرادی کوسشوں کے حوالے مجھے یہ اچھی طرح یاد ہے کہ ٹورانٹو کے میئر شپ کے2010 کے الیکشن میں انھوں نے راب فارڈ کی ڈور ٹو ڈورکنویسنگ کی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ راب فارڈ قوم لوطؑ کی باقیات کے بولڈ مخالف تھے۔ان کے مقابلے میں شہر کا مشہور ہم جنس پرست اسمارٹر مین تھا۔ امام چٹیل نے ماس ٹیلیفونک مارکیٹنگ کے ذریعہ اسمارٹر مین کی خوب حمائت کی تھی۔مسٹر چنگار نے تو ان کی جیت کے لئے رات دن ایک کر دیا تھا۔ مسٹر چنگار جب کسی کو چاہتے ہیں تو دل و جان سے چاہتے ہیں۔ بلکہ اپنا دل نکال کر ایک ہاتھ میں اور جگردوسرے ہاتھ میں لے کر چلتے ہیں۔ اور اس کیفیت میں ایک مدت تک وہ اس طرح محو ہو جاتے ہیں کہ دل و جگر کو دوبارہ جسم کے اندر ڈالنا بھی بھول جاتے ہیں۔قارئین حیران ہوں گے کہ آخریہ کیسے ممکن ہے ۔لیکن اگر آ پ کومسٹر چنگار کے چمتکار کا علم ہو تو آپ کبھی حیران نہ ہوں۔ البتہ آپ کے دل و جگر کا گروپ اگرمختلف ہے تو آپ حیران ہونے کے بجائے پریشان ہوں گے۔مسٹر چنگار کی اس ملّا سے دوستی پرانی ہے اس لئے ان کے بہت سے چمتکار سے بخوبی واقف ہوں۔تاہم مذکورہ انتخاب میں ان کا امیدوار ہار گیا تھا۔راب فارڈ جیت گئے تھے۔ اور اس سال کے اکتوبر الیکشن میں دوبارہ کھڑے ہو گئے ہیں۔ چند ماہ قبل ان کا اسکینڈل عالمی میڈیا کا موضوع رہا ہے۔ پولیس نے انھیں کوکین کا عادی ، شہر کے گینگ کے ساتھ مراسم کے حوالے سے الزام لگایا اور سٹی کونسل نے اکثریت کی رائے پر ان سے میئر کے بہت سے اختیارچھین کر انتہائی کمزور کر دیا ہے۔ اس سال اکتوبر میں سٹی میئر اور کونسل کے انتخابات ہونے ہیں دیکھئے مسٹر چنگار اس بار ”باقیات“ سے یا اس سے باہر کس کو لاتے ہیں۔کئی ماہ گزر گئے ہیں اور ان سے ابھی تک” مل کر اور بیٹھ کر“ بات نہ ہو سکی ہے۔ گرچہ یہ بات طے ہے کہ اگر وہ باقیات سے باہر بھی ہوا تو اس کی ”رشتہ داری“ باقیات میں ہی ہوگی۔

 نذیرالآفات شہری، صوبائی اور ملکی سطح پر تیزی سے گرتی ہوئی اخلاقی صورت حال سے بہت پریشان رہتے ہیں۔ گزشتہ سے گزشتہ سال پہلی بار ایک مشہور لیزبین لیڈر (باقیات قوم لوطؑ) مسز وہسکی کی صوبائی پریمیر بننے پر وہ سخت افسردہ تھے اور ایک طرح سے مایوس بھی۔اب میرے بس میں نہیں کے انھیں سمجھاوں۔کوئی انھیں جا کر سمجھائے کہ ہم سمجھائیں کیا۔

 (اس ڈائری کے تمام کردار فرضی ہیں۔اتفاقی مماثلت کا ذمہ دار ملّا ہے اور نہ ادارہ آفاق بلکہ تلاش کرنے والا خود ذمہ دار ہے۔ البتہ ملاّکا تاکیدی فرمان ہے کہ آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ کر شرمانا منع ہے)

Bookmark and Share
Print This Post Print This Post

You must be logged in to post a comment Login