TopSecurity

ہوم اسکولنگ: ۱۵ وجوہات

“ایک پھوہڑ ماںاپنے بچوں کو ایک ماہر تعلیم اور پی ایچ ڈی ٹیچر کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر تعلیم و تربیت دے سکتی ہے”  یہ بات متعدد ماہرین تعلیم نے کہی ہے۔ میں سب سے پہلے تعلیم کی ایک سادہ سی تعریف کروں گا اور اس کے بعدمیں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا آپ کا بچہ واقعی تعلیم حاصل کر رہا ہے؟ تعلیم کی تعریف: جب ایک نسل اپنی دوسری نسل کو اپنا عقیدہ، اپنا دین، اپنی روایات، الہامی علوم، اپنی تہذیب و تمدن، اپنی تاریخ، اپنی ثقافت اور زبان، اپنے تاریخی ہیروز کے کارنامے کی حکایات منتقل کرتی ہے تو اس عمل کو تعلیم کہتے ہیں۔ کیا پبلک اسکو ل میں جانے والا آپ کا بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہے؟

بقول جان ٹیلر گیٹو (نیو یارک کا ایوارڈ یافتہ ٹیچر اور Dumbing Us Down کا مصنف)پبلک اسکول 12 سال کے جیل کی قید ہے جس کا واحد نصاب  “بری عادات ”کو پروان چڑھانا ہے۔میں یہ بخوبی اس لئے جانتا ہوں کہ میں یہ کام اسکول میں پڑھا کر اور ایوارڈ لے کر کرتا رہا ہوں”۔ جان گیٹو26 سال تک  نیو یارک پبلک بورڈ ایجوکیشن کے ٹیچر رہے۔ تین سال تک انھیں نیویارک کے بہترین ٹیچر کا ایوارڈ ملتا رہا ۔ اور اسی سال جب وہ بہترین ٹیچر کا ایوارڈ رکھتے تھے استعفیٰ دے کر اسکول سے نکل گئے اور بیان یہ دیا کہ   “اب وہ مزید اس نظام کا حصہ نہیں بن سکتے جو دماغ کو برباد کر کے زندگیاں تباہ کررہاہے ۔” جان گیٹو نے کہا کہ”پبلک اسکول کے بچوں نے اپنی تربیت کے مطابق میرے سامنے ہمیشہ یہی مظاہرہ کیا کہ انسانی فضیلت کی جتنی نشانیاں ہیں مثلاً بصیرت، حکمت، انصاف،خوش تدبیری، شجاعت اور قوت تخلیق ان سب کے معاملہ میں وہ ذہنی انتشار کا شکار ہے”۔ جان گیٹو کا کہنا ہے کہ اس کا اب واحد حل یہ ہے کہ حکومت کو اسکول بزنس سے آوُٹ کر دیا جائے۔ پبلک اسکول کو مکمل بند کروا دیا جائے اور تعلیم کا کام والدین، فیملی، اور کمیونٹی انجام دے۔ جان گیٹو کی تحریک پر بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو اسکول سے نکال لیا۔اس وقت امریکا میں پچیس لاکھ بچے گھریلو اسکولوںمیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

برصغیر سے آئے ہوئے والدین مغربی نظام تعلیم اور اسکول سے بہت متاثر اور مرعوب ہیں۔اس کی وجہ زیادہ تر لاعلمی ہے۔ ہاں البتہ ایسے بھی لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنھوں نے سوچ سمجھ کر اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر اور شرح صدر کے ساتھ اس نظام تعلیم سے اپنے آ پ کو ہم آہنگ کرلیا ہے۔اونٹاریو کینیڈا کے ایجوکیشن بل13 اور ہم جنس پرست تعلیمی نصاب کے بعد بھی ان کی سوچ میں فرق نہیں آیا۔ میرا یہ مضمون ان کے لئے نہیں ہے، نہ ان سے ہماری بحث ہے۔ہاں البتہ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ اسلامی تنظیموں اور مراکز میں بھی اب ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ، جو متبادل نظام تعلیم کے مخالف اور لبرل سماجی ایجنڈا کے سرگرم کارکن ہیں۔

مندرجہ ذیل وجوہات اور اسباب ہیں جس کے باعث ہم اس وقت گھروں پر تعلیم کو واحد عوامی حل سمجھتے ہیں۔

1 ۔ماہرین علوم تعلیم اور نفسیات کی رائے ہے کہ بچوں پر سب سے زیادہ اثر ماحول کا ہوتا ہے۔ اور اسکول کے ماحول میں 6 سے 7 گھنٹے کا جو اثر ایک بچے پر پڑتا ہے اسے گھر کا پاکیزہ ترین اور آئیڈیل ترین ماحول بھی بدل نہیں سکتا (یہاں استثنیٰ کی بات نہیں ہے، استثنائی صورت حال ہر جگہ ہوتی ہے)ا ور اسکول کا ماحول آپ کے تصور سے بھی زیادہ بگڑچکا ہے۔ کیونکہ کینیڈا اور امریکہ کے خاندان اور سماج کا ماحول بہت بگڑ چکا ہے۔جو لوگ پبلک اسکول کو ضروری قرار دے کر اس کے ساتھ ساتھ گھر کی تربیت کی بات کرتے ہیں وہ گویا یہ کہہ رہے ہیں کہ بچوں کو نائٹ کلب، شراب خانے، جوا خانے جہاں مرضی بھیج دو، واپسی پر تم اپنے “گھر کے ماحول” سے نہلا کر انھیں پاک کر دو۔ پبلک اسکول میں نشہ آور ڈرگ، شراب، سگریٹ ، اور جنسی ہیجان خیزی سب کچھ موجود ہے۔

ہوم اسکولنگ میں آپ اپنے بچوں کو گھر کا پاکیزہ ماحول دیتے ہیں۔

2۔تعلیم میں سب سے اہم رول ٹیچر کا ہوتا۔آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے ٹیچر کا لائف اسٹائل اور فیملی لائف کیا ہے۔ زیادہ تر بغیر شادی شدہ اکیلی ماں، اکیلا باپ، بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ رکھنے والے اور والیاں اور اب بڑی تعداد میں جنسی منحرفین اور مرتدین (LGBTTIQ) کا پبلک اسکول ٹیچنگ میں جانا اور ایک مشن کی طرح اپنے اثرات پھیلانا آپ کے بچوں کو ایک “نئی دنیا” میں لے جائے گا۔ اس “نئی دنیا” کو جس طرح خوشنما بنا کر اور جس پیار و محبت کے ساتھ لے جایا جائے گا اس کا مقابلہ آپ کے گھر کا “مذہبی ماحول” نہیں کر پائے گا۔یہ ناممکن ہے کہ ایک ٹیچر اپنی زندگی، اپنے اخلاق اور لائف اسٹائل کے اثرات بچوں پر نہ چھوڑے۔میرے ایک کرسچین ٹیچر نے بچپن (پرائمری)میں ایک انڈین فلمی گانا سکھایا تھا، وہ مجھے آج تک یاد ہے۔کیا آج ایک ٹیچر اپنے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ یا اپنے ہم جنس پارٹنر کے بارے میں جو کچھ بتائے گا یا بتائے گی تو کیا اس کے گہرے اثرات بچوں پر نہیں پڑیں گے؟ واضح رہے کہ بچوں کو ان ٹیچرز کی زندگیاں خوشگوار، مسائل سے پاک، اور خوشحال لگیں گی جب کہ وہ اپنے والدین کو پریشان، مسائل سے دوچار اور بدحال پائیں گے۔ وہ والدین کو بیوقوف اور اپنے ٹیچر کو اسمارٹ جانیں گے اور استاد کی زندگی کے گہرے اثرات ان پر پڑیں گے۔ کچھ دور تک وہ ڈبل رول ادا کریں گے، گھر میں کچھ اور باہر کچھ۔لیکن بلوغت کے ساتھ ہی ان کا اصلی رنگ ظاہر ہو جائے گا۔

ہوم اسکولنگ میں آپ اپنے بچوں کوگمراہ، فطرت سے منحرف اور بدکردار ٹیچرز سے بچالیں گے۔

3۔پبلک اسکول کا نصاب”سیکولر ہیومینزم” کے تحت بنایاجاتا ہے۔ خدا کو زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔جس میں انسان کی سطح حیوان کی ہے۔یعنی انسان بھی ایک حیوان ہے، عقلمند حیوان، خدا کا کوئی وجود نہیں، اور انسان آدم ؑکی اولاد نہیں بلکہ بندر کی اولاد ہے۔ جنسیات کی تعلیم کچی عمر میں دے کر ان کی معصومیت ختم کر دی جاتی ہے۔اسکولوں میں ہر قسم کے حیوانی افعال کی کھلی آزادی ہے۔مزید برآں صوبہ اونٹاریو کینیڈا میں ہم جنس پرست نصاب جو ہم جنس پرست وزیر تعلیم کے زیر نگرانی ہم جنس پرست ارکان پر مشتمل نصابی کمیٹی بنا رہی ہے۔ وہ ہم جنسیت کے رجحان کا کیڑا بچپن سے ہی ڈال دے گی۔نئے نصاب کے مطابق KGکے بچوں کو متبادل فیملی (دو ماں اور دو باپ) کا تصور دیا جائے گا۔ایسی کتابیں تیار کی گئیں ہیں جس میں ایک  دو ماوُں کی کہانی اور منحرف گھریلو نظام کا تذکرہ ہو گا۔ تیسری جماعت کے بچوں کو یہ بتا یا جائے گا کہ جنس ایک سیال شئے ہے جو پیدائشی نہیں ہے، یعنی ایک لڑکا لڑکی بھی ہو سکتا ہے اور ایک لڑکی لڑکا بھی ہو سکتی ہے ۔اس کلاس میں بچوں کو اپنی “شناخت نو” کے لئے کہا جائے گا۔گریڈ4 میں” جنسی رجحان “ کو مستحکم کیا جائے گا۔ گریڈ 6 میں لڑکو ں کو مشت زنی اور لڑکیوں کو فرجی چکناوُککی تراکیب بتائی جائیں گی۔ساتویں گریڈ میں ہرقسم کے جنسی طریقے بشمول جنسی عمل بذریعہ زبان اور پشت (فعل قوم لوط) پڑھائے جائیں گے۔ٹورانٹو اسکول بورڈ کا ہدائت نامہ یہ کہتا ہے کہ ٹیچرز کو حساس نوعیت کے نصاب سے متعلق والدین کواطلاع نہیں دینی ہے۔

ہوم اسکو لنگ میں آپ بچوں کو اس خبیث نصاب سے بچا لیں گے۔

4۔اسکول یکساں نصاب میں ہر بچے کو کچل دیتا ہے۔ حالانکہ ہر بچے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً ایک بچہ کا رجحان لٹریچر کی طرف ہے دوسرا سائنس کی طرف ہے ، تیسرا حساب بہتر کرتا ہے۔اپنے پسند کے موضوع کے باعث بچوں میں علم سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ہوم اسکولنگ میں آپ اپنے بچوں کواس کے رجحان کے مطابق پڑھا سکتے ہیں۔

5۔ہوم اسکولنگ کے لئے نصابی مواد آپ اپنی پسند سے انتخاب کرتے ہیں۔مثلاً آپ عالمی تاریخ کی کتاب کے ساتھ اسلامی تاریخ بھی پڑھا سکتے ہیں،سائنس کی عام کتاب کے ساتھ ہارون یحی ٰاور دیگر مسلم سائنسدانوں کی سائنس کی کتابیں پڑھائیں جو بچوں کو سائنس کے ذریعہ سے معبود حقیقی سے ملاقات کرا دیتی ہیں۔ انگریزی کے ساتھ مختلف زبانیں پڑھا سکتے ہیں۔ہمارے بچوں کو عربی اور اردو زبانیں ضرور ہی آنی چاہئے۔ انگریزی دنیاوی علوم کا دروازہ کھولتی ہے تو عربی اور اردو دینی تعلیم کا دروازہ کھولتی ہے اور اپنی تہذیب سے جوڑے رکھتی ہے۔آپ یہاں پرائیویٹ اسلامی اسکول میں بھی یہ چیزیں حاصل نہیں کر سکتے۔

6۔ ہوم اسکولنگ دینی تعلیم و تربیت کا بہترین مو قع فراہم کرتا ہے۔آپ اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور علوم دینیہ کی طرف لگا سکتے ہیں۔قرآن اور حدیث فہمی کے ذریعہ بہترین انسانی اخلاق کی تعمیر ہوتی ہے اور یہ دنیا اور آخرت کے لئے نور ہے۔

7۔ ہوم اسکولنگ میں بچوں کے اندر میں ایسی علمی استعداد اور ذہانت پیدا کی جاتی ہے جو وہ ساری زندگی لے کر چل سکیں۔ ہزاروں گھنٹے اسکول میں پڑھائی جانے والی چیزوں میں شائد ہی کوئی چیز یاد رہتی ہے۔ دراصل بنیادی چیز علم کو حاصل کرنے کے طریقے کا ہنر ہے اسے بچوں کو دیا جائے اور ان میں مطالعہ کا شوق پیدا کر دیا جائے۔حساب اور عربی زبان دماغ کے گرہوں کو کھول دیتی ہے۔قرانی عربی گرامر کا سیکھنا ذہانت کے لئے شرط ہے۔

8۔ ہوم اسکولنگ حقیقی اور عملی تعلیم کا موقع فراہم کرتا ہے۔ایک کلاس میں25 ہم عمر طلباءکے ساتھ گھنٹوں وقت گزارنا حقیقی زندگی کی نمائندگی نہیں ہے۔ایک بچہ جب مختلف عمر کے بچوں اور والدین کے ساتھ اس طرح تعلیم و تربیت میں ملوث ہوتا ہے کہ وہ عملی طور پر چیزوں کو خود کر رہا ہو تا ہے تو یہ حقیقی زندگی کی نمائندگی ہے۔تجربہ سے یہ بات ثابت ہے کہ بچہ اس سبق کا 75 فی صد یاد رکھتا ہے جو وہ عملی طور پر وہ خود اپنے ہاتھ سے کرتا ہے۔جب کہ لکچر سے صرف 5سے10 فی صد یاد رکھتا ہے۔

9۔پبلک اسکول سسٹم میں گھوڑے، گدھے اور ہرن اور کچھوے ساتھ چلتے ہیں۔ یعنی بچوں کی انفرادی تیزی یا سست چال سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے جس سے دونوں طرح کے طلباءکا نقصان ہوتا ہے۔ ہوم اسکولنگ میں جو بچے تیزی سے پڑھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں وہ آگے جا سکتے ہیں اور جو اپنی رفتار سست رکھتے ہیں وہ بھی اطمینان سے چل سکتے ہیں۔ہوم اسکولنگ میں انفرادا ی رجحان، طبیعت، مزاج، پسند و ناپسند، اور انفرادی استطاعت کو فوقیت دی جاتی ہے جس سے ان کی قدرتی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں۔

10۔تجربہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قطع نظر جغرافیائی علاقہ، آمدنی اور والدین کی تعلیمی پوزیشن، ہوم اسکولنگ کے بچے کی اکیڈمک استعداد پبلک اسکول کے بچوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر کینیڈا میں گریڈ1 سے 8 تک کے بچوں کی ریڈنگ میں ہوم اسکولنگ کے طلباءکی اوسط81فیصد جبکہ اسی گریڈ گروپ کے پبلک اسکول کے بچوں کی اوسط50 فیصد ہے۔ امریکا میں گریڈ1سے4کے ہوم اسکولنگ کے بچے کا لیول پبلک اور پرائیویٹ اسکول کے بچوں سے ایک گریڈ اوپر ہوتا ہے۔گریڈ 8کے ہوم اسکولنگ کے بچے قومی اوسط سے4 لیول اوپر ہوتے ہیں۔ کینیڈا میں2003کے اعداد و شمار کے مطابق ہوم اسکولنگ کے94فیصد طلباءپبلک اسکول کے طلباءسے گریڈ اور بنیادی ہنر دونوں میں آگے تھے۔یونیورسٹیز ہوم اسکولنگ کے طلباءکا داخلہ لیتی ہیں اور اس کے لئے طریقہ کار ہے پورٹ فولیو، انٹرویو یا امتحان۔اس طرح ہائی اسکول تک ہوم اسکولنگ ہو سکتی ہے۔پہلے مرحلے پر اگر ہمKGسے8 تک کی ہوم اسکولنگ کی ذمہ داری ہی لے لیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

11۔ ہوم اسکولنگ کے بچوں کی سماجی استعداد (سماج میں گھلنے ملنے کی صلاحیت) بہتر ہوتی ہے۔ پبلک اسکول میں ایک ہی عمر کے بچوں کے ساتھ جو گپ شپ اور کچہری ہوتی ہے اس کا معیار اس سے کہیں کم ہوتا ہے جو بچے مختلف عمر کے بچوں اور والدین سے مل کر باتیں کرتے ہیں۔ پبلک اسکول میں ہم عمر بچوں میں جو گریڈ، شہرت، لباس اور نمایاں ہونے کے مقابلے ہوتے ہیں اس میں عموماً مار دھاڑ،جارحیت، گالم گلوچ، ذہنی کوفت، مایوسی، اور جذباتی دھکے لگتے ہیں۔ ہوم اسکولنگ کے طلباءزیادہ تراسپورٹس اوردوسرے پروگراموں میں شامل ہوتے ہیں اس میں مختلف عمر کے طلباءشریک ہوتے ہیں۔ اور ان میں ایک دوسرے سے سیکھنے کا نہ کہ مقابلہ آرائی کا ماحول ہو تا ہے۔

12۔ ہوم اسکولنگ کے بچے فیملی سے جڑے ہوتے ہیں۔بڑے بچے چھوٹے بچوں کو پڑھاتے اورایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔آپس میں تعلیمی، مذہبی،اور اخلاقی موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔ والدین بچوں کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ نیز والدین اپنے بچوں کو ایسے والدین سے ملواتے ہیں جو ایک مثبت رول ماڈل ہوں۔ وہ جس طرح اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ایسے لوگوں سے رابطے اور ملاقاتیں کراتے ہیں۔

13۔ہوم اسکولنگ کے طلباءمیں خود اعتمادی اور خود توقیری پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ اسکول کے غیر محفوظ اور مقابلہ آرائی کی فضا سے دور رہتے ہیں ناپسندیدہ ٹیچر، ناپسندیدہ کلاس فیلو اور اس کے دباوُسے دور گھر بیٹھ کر اطمینان کے ساتھ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

 14۔ہوم اسکولنگ کے والدین کے لئے ٹیچر ٹریننگ کا سرٹیفیکٹ ہونا ضروری نہیں ہے۔کینیڈا میں ہوم اسکولنگ قانونا ً جائز ہے۔آپ جب چاہیں اپنے بچے کو اسکول سے نکال سکتے ہیں ۔ اس کے لئے اپنے شہر یا ریجین کے اسکول بورڈ کو صرف خبر کرنی ہوتی ہے۔ہر تعلیمی سال کے لئے ہر سال درخواست جمع کرائی جاتی ہے۔

15۔ ہوم اسکولنگ میں آپ تنہا نہیں۔ستمبرمیں کینیڈا میں 80,000 بچے اور امریکا میں پچیس لاکھ بچے ہوم اسکولنگ کے لئے جائیں گے۔ ٹورانٹو میں مسلم ماں ہوم اسکولرز کا ایک گروپ ہے http://torontomuslimhomeschoolers.com/

اس کی ماہانہ میٹنگ ہوتی ہے، بچوں کے لئے اجتماعی فیلڈ ٹریپ، تفریحی ، معلوماتی ، اسلامی اجتماعی پروگرامات ہوتے ہیں۔ ان سے رابطہ رکھیں۔

(اس مضمون کے لےے میں نے بہن شہنازطوراواکے ایک مضمون اور جان گیٹو کی کتاب Dumping Us Downکے مواد سے استفادہ کیا ہے۔جاوید انور)

[جاوید انور سے seerahschool@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے]

Bookmark and Share
Print This Post Print This Post

You must be logged in to post a comment Login